وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (RCCI) کے زیرِ اہتمام پری بجٹ سیمینار میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جہاں انہوں نے تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق حکومتی ترجیحات پر روشنی ڈالی۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت آئندہ وفاقی بجٹ میں ٹیکس دہندگان اور بالخصوص تنخواہ دار طبقے پر مالی بوجھ کم کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جبکہ کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے مشاورت کا عمل جاری ہے۔
وزیرِ مملکت نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس حکام کی جانب سے ہراسانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور تاجروں کے ساتھ ناروا رویے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے سازگار اور کاروبار دوست ماحول فراہم کیا جائے گا۔
بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران مالیاتی نظم و ضبط اور مؤثر معاشی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے، عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوا اور علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستانی روپیہ مستحکم رہا۔
وزیرِ مملکت نے مزید کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح برآمدات میں اضافہ اور معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہے تاکہ پاکستان مستقل بنیادوں پر آئی ایم ایف پروگرامز سے نجات حاصل کر سکے۔
انہوں نے بتایا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کیلئے خصوصی سہولیات متعارف کرائی جا رہی ہیں جبکہ چھوٹے ایکسپورٹرز کیلئے درآمدی اشیا کے استعمال کی مدت 18 ماہ تک بڑھا دی گئی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں مزید آسانی پیدا ہو سکے۔


