جہلم: عید الاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی جہلم شہر اور گردونواح میں قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، جس کے باعث متوسط طبقے کے افراد کے لیے سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی مشکل ہو گئی ہے۔
شہریوں نے عید قربان کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور جانوروں کی خریداری کے لیے مویشی منڈیوں کا رخ کیا جا رہا ہے۔ تاہم، دنبے، بکرے اور چھترے کی قیمتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ عام شہری انفرادی قربانی سے زیادہ اجتماعی قربانی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بیل، گائے اور اونٹ میں حصے ڈالنے کا رجحان نمایاں طور پر بڑھ رہا ہے۔
خریداروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے ان کے لیے قربانی جیسے اہم دینی فریضے کی ادائیگی کو بھی چیلنج بنا دیا ہے۔ ایک عام درمیانے درجے کے بکرے کی قیمت بھی عام آمدنی والے افراد کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مویشی منڈیوں میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ ہر طبقے کے افراد سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کر سکیں اور عید خوشی سے منا سکیں۔


