جہلم میں ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔
شہریوں کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت 580 سے 600 روپے تک وصول کی جارہی ہے، جس کے باعث 11اعشاریہ 8 کلوگرام کا گھریلو سلنڈر 6 ہزار 200 روپے سے بھی تجاوز کرگیا ہے۔ دوسری جانب اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کا سرکاری نرخ 280 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود گیس اس سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق اگر سرکاری نرخ اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمتوں میں اتنا بڑا فرق موجود ہے تو متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر نگرانی اور کارروائی کیوں نہیں کی جارہی؟
شہریوں نے شکایت کی کہ ایل پی جی سلنڈر فروخت کرنے والے بعض دکاندار مبینہ طور پر من مانے نرخ وصول کررہے ہیں، جس سے گھریلو صارفین کے لیے کھانا پکانے جیسی بنیادی ضرورت پوری کرنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے خاندان سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں، جبکہ مہنگائی کے باعث ان کے گھریلو بجٹ پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
شہریوں نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیرا فورس کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی فروخت کے نرخوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی جائے اور سرکاری قیمت سے زائد وصولی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب شہریوں کے مطابق گھریلو صارفین کو سوئی ناردرن گیس کی فراہمی بھی محدود ہے اور بعض علاقوں میں 24 گھنٹوں کے دوران بمشکل چھ گھنٹے گیس دستیاب ہوتی ہے۔ گیس کی محدود فراہمی کے باعث شہریوں کو متبادل ایندھن کے طور پر مہنگی ایل پی جی خریدنا پڑتی ہے، جس سے ان کے اخراجات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے اور مبینہ ناجائز منافع خوری کا نوٹس لیا جائے، سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور گھریلو صارفین کو سوئی گیس کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اعلیٰ عدلیہ سے بھی اپیل کی ہے کہ عوام کو درپیش معاشی مشکلات اور مبینہ ناجائز منافع خوری کے معاملے کا نوٹس لیا جائے۔


