جہلم: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل جہلم صباء سحر کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ویجیلنس کمیٹی کا اجلاس ڈی سی آفس کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ جس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر ہمایوں، ڈی او لیٹریسی میمونہ، بھٹہ ایسوسی ایشن کے صدر و دیگر ضلعی افسران، بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن کے عہدیداران، بھٹہ ورکرز یونین کے عہدیداران نے شرکت کی۔
اجلاس میں بھٹہ جات کے متعلق شکایات، بھٹہ خشت مزدوروں کی ویکسینیشن، کم از کم اجرت پر عملدرآمد، جبری مشقت، سوشل سکیورٹی کارڈز کے اجراسمیت دیگر معاملات کا تفصیلا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جہلم شہر میں 95 بھٹہ خشت کام کر رہے ہیں جن میں سے 41 زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہو چکے جبکہ باقی پر کام جاری ہے۔
اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل صباء سحر نے کہا کہ بھٹہ خشت مزدوروں کی ویکسی نیشن جلد از جلد کروائی جائے، بھٹہ مزدوروں کے حقوق کا مکمل تحفظ اور کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
سوشل سکیورٹی کارڈز کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ 400 درخواستوں میں سے اب تک 378 کو کارڈ جاری ہو چکے ہیں۔
اے ڈی سی جی نے کہا کہ مزدوروں کیلئے زیادہ سے زیادہ سوشل سکیورٹی کارڈز کے اجرا کو یقینی بنایا جائے۔ سوشل سکیورٹی کارڈ کے اجراء کے لیے بھٹہ مالکان اور مزدورں کیساتھ میٹنگ کرکے لائحہ عمل ترتیب دیں تاکہ ہر مزدور کو سوشل سکیورٹی کارڈ کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ تمام بھٹہ جات پر شجر کاری کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔


