جہلم: مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں "سیرۃ رحمۃ اللعالمین ﷺ و استحکام پاکستان” کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت قاری حکیم شبیر احمد عثمانی صدر مرکزی علماء کونسل جہلم نے کی۔ اجلاس میں ضلع بھر کے علمائے کرام، دینی رہنما اور معزز شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔
علماء کرام نے اپنے خطابات میں کہا کہ مسلم امہ کی حقیقی کامیابی صرف اور صرف اسوۂ رسول اکرم ﷺ پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔ حضور رحمۃ للعالمین ﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے اور یہی وہ رحمت بھری سیرت ہے جسے اپنا کر انسان دنیا و آخرت کی کامیابیاں سمیٹ سکتا ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس ہے۔ 7 ستمبر 1974ء کو قادیانیوں کو ریاستی سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار دینا قومی اسمبلی کا ایک تاریخ ساز اور متفقہ فیصلہ تھا، جو پاکستان کی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے قانون کے تحفظ کے لیے ملک کا بچہ بچہ بیدار ہے اور ہر مسلمان اس کے دفاع کے لیے پہرہ دار ہے۔
علمائے کرام نے حالیہ سیلاب متاثرین کی بحالی میں پاک فوج، دینی اور فلاحی اداروں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر مستقبل کی حکمت عملی جدید تقاضوں کے مطابق وضع کرے۔ عوام الناس اور فلاحی اداروں پر زور دیا گیا کہ وہ بڑھ چڑھ کر متاثرہ بہن بھائیوں کی مدد کریں۔
شرکاء نے کہا کہ ملک اس وقت تباہ کن صورتحال کا شکار ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات بھلا کر متحد ہوں اور فلاحی و قومی اداروں کے شانہ بشانہ سیلاب متاثرین کی بحالی میں کردار ادا کریں۔ علماء کرام نے قدرتی آفات کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی قرار دیتے ہوئے عوام سے اجتماعی رجوع الی اللہ اور توبہ و استغفار کا اہتمام کرنے کی اپیل کی۔
اجلاس کے اختتام پر سیلاب میں شہید ہونے والے تمام افراد کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی گئی۔
اجلاس میں مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے رہنما اور مختلف تحصیلوں کے صدور نے موسم کی شدت اور اربن فلڈ کے باوجود شرکت کی جن میں قاری شبیر احمد عثمانی (صدر)، مولانا محمد انس الرحمن (جنرل سیکرٹری)، حافظ محمد احسان، مولانا مرتضیٰ تنویر، مولانا محمد مدثر، قاری عاصم عرفان، شاکر علی بھٹی، قاری محمد ابراہیم منیر، مولانا قاری محمد اشرف، ملک محمد مبارک، قاری ابصار ایوب، ملک امانت علی، مولانا ذیشان اسحاق، مولانا حکیم زبیر الحسن، عبدالرزاق شمیم (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ)، ملک محمد قاسم (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ)، ملک محمد مدثر ودیگر شامل ہیں۔


