جہلم کی معروف کاروباری شخصیت مہر محمد افضل نے کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری توانائی بحران، بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور صنعتوں کی بندش نے کاروباری طبقے کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متعدد صنعتیں بند ہو چکی ہیں جبکہ باقی شدید دباؤ کا شکار ہیں، جس کے باعث بے روزگاری اور غربت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک کی 40 فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
مہر محمد افضل نے کہا کہ مہنگی بجلی اور گیس نے صنعتی پہیہ تقریباً جام کر دیا ہے، جس کے باعث نہ صرف مقامی پیداوار متاثر ہوئی بلکہ برآمدات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو رواں سال برآمدات میں تقریباً 7 ارب ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صنعتوں کی بندش کے باعث لاکھوں افراد بے روزگار ہو رہے ہیں جبکہ سرمایہ کار بھی بددل ہو کر سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے معاشی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔


