سوہاوہ کے علاقے ڈومیلی میں تھریشر مالکان کی من مانیاں عروج پر پہنچ گئیں، جہاں ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود ریٹس کم نہ کیے جا سکے۔
بڑاگواہ اور گردونواح میں تھریشر کے کرایوں کا کوئی باقاعدہ معیار موجود نہیں، کچھ مالکان 6 ہزار روپے فی گھنٹہ جبکہ کئی مقامات پر کسانوں سے 7 سے 8 ہزار روپے فی گھنٹہ تک وصول کیے جا رہے ہیں۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ ڈیزل سستا ہونے کا فائدہ انہیں دینے کے بجائے مشین مالکان منافع خوری میں مصروف ہیں۔
مقامی کسانوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی گندم کی کاشت کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو رہا ہے جبکہ تھریشر مالکان کی بھاری وصولیوں نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
کسانوں نے اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ غزالہ اصغر اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے کر سرکاری ریٹ لسٹ نافذ کی جائے اور اوور چارجنگ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی سے کسانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے تھریشر کرایوں میں بھی فوری کمی کو یقینی بنایا جائے۔


