جہلم شہر اور گردونواح میں لیبر ایکٹ کی خلاف ورزیاں معمول بن چکی ہیں، محکمہ لیبر کے ذمہ داران کی خاموشی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں کم عمر بچے بیکریوں، ورکشاپس، دکانوں اور ہوٹلوں میں دن رات مزدوری کرتے نظر آتے ہیں، جس سے چائلڈ لیبر ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی جاری ہے۔
حکومتی احکامات اور قوانین کے باوجود کم سن بچے سکول جانے کے بجائے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ ضلعی سطح پر متعلقہ محکمے کی مجرمانہ غفلت نہ صرف ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے بلکہ ان بچوں کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔
دوسری جانب نجی کاروباری اداروں اور تجارتی مراکز میں بھی حکومتِ پنجاب کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم تنخواہ 40 ہزار روپے، 8 گھنٹے ڈیوٹی اور 26 دن کام کے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
متعدد ملازمین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مالکان 12 سے 14 گھنٹے کام کرواتے ہیں مگر صرف 20 سے 25 ہزار روپے تنخواہ دیتے ہیں۔ معمولی اجرت کے باعث محنت کش طبقہ سخت معاشی مشکلات کا شکار ہے۔
محنت کشوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لیبر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا نوٹس لیں، لیبر قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور کم سن بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔


