جہلم: پراپرٹی اور زمین کی خرید و فروخت کا کارروبار تقریبا ًنہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے اور اس کاروبار میں ساٹھ سے ستر فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے کیونکہ سرکاری فیس جو کہ فروخت کنندہ سے 6 فیصد اور خرید کنندہ پر ساڑھے 14 فیصد وصول کی جارہی ہے اور اگر مکان کا نقشہ نہ ہو تو اس کے 2 فیصد فیس الگ سے وصول کی جاتی ہے۔
جہلم شہر میں پراپرٹی سے منسلک افراد نے مشترکہ طور پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زمین کا کارروبار کرنے والے پراپرٹی ڈیلرز سارا دن دفاتر میں بیٹھے رہتے ہیں اور شام کو ایسے ہی خالی ہاتھ گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں پراپرٹی کا کام اب صرف چل پھر کر کام کرنے والے افراد نے سنبھال لیا ہے اب وہ خود ہی خرید و فروخت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ فیسوں میں کمی کا اعلان کرے تاکہ پراپرٹی کی خرید و فروخت کا کاروبار زیادہ ہو سکے اس طرح لوگوں کا کاروبار بھی چلتا رہے گا اور گورنمنٹ کو بھی فیسوں کی مد میں لاکھوں کروڑوں روپے ٹیکس ملتا رہے گا اگر ٹیکسوں میں کمی نہ کی گئی تو پھر ہو سکتا ہے کہ پراپرٹی کی خریدو فروخت کا کام بالکل ختم ہو جائے اور پراپرٹی کا کام کرنے والے افراد بے روزگار ہو کر بیٹھ جائیں۔
پراپرٹی ڈیلرز نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ رجسڑی اور انتقال کی فیسوں میں کمی کرنے کا اعلان کیا جائے تا کہ پراپرٹی سے وابستہ افراد اپنا کاروبار عزت سے کر سکیں اور عوام کو ریلیف مل سکے۔ اس طرح حکومت کو بھی ماہانہ لاکھوں کروڑوں کی آمدن ہوگی جو کہ ملکی ترقی اور خوشحالی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔


