جہلم: جامعہ علوم اثریہ جہلم میں 42واں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد و تقریبِ صحیح بخاری نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے علمائے کرام، طلباء، فضلاء اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کی صدارت جامعہ کے مہتمم اور نائب امیر مرکزی جمعیت اہلِ حدیث پاکستان حافظ عبدالحمید عامر نے کی۔ انہوں نے خطاب میں کہا کہ تحفظ ختم نبوت اور ناموسِ صحابہ ہماری دعوت کا بنیادی نکتہ اور ایمان کا جزوِ لاینفک ہے۔
عبدالحمید عامر نے کہا کہ اصلاحِ معاشرہ میں علمائے کرام کا کردار قابلِ فخر ہے، آج بھی اسلامی اقدار کی بقا میں مدارسِ دینیہ کی خدمات کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ داعیانِ اسلام پر لازم ہے کہ وہ عوام کی اصلاح، تربیت اور اخلاقی بلندی کے لیے اپنا کردار ادا کریں، جبکہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور منفی رجحانات کے خاتمے کے لیے برداشت اور ادب کو فروغ دیں۔
محدث العصر علامہ عبداللہ ناصر رحمانی (کراچی) نے اپنے خطاب میں کہا کہ امام بخاریؒ محدثینِ کرام میں درخشندہ ستارہ ہیں، جن کی کتاب "صحیح بخاری” تمام کتبِ حدیث میں امتیازی مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عقیدۂ توحید ہر عبادت کی بنیاد ہے اور اسی کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔
شیخ الحدیث جامعہ علوم اثریہ، مولانا سیف اللہ اثری جہلمی نے کہا کہ آج الحاد اور انکارِ حدیث کے فتنے تیزی سے پھیل رہے ہیں، جبکہ قرآنِ مجید کے فہم کے لیے احادیثِ نبویہ سے رہنمائی لینا ناگزیر ہے۔
ناظمِ سیاسی امور مرکزی جمعیت اہلِ حدیث پاکستان، علامہ معتصم الٰہی ظہیر (لاہور) نے کہا کہ ختمِ نبوت کے منکر مرزا قادیانی کی موت دنیا کے لیے عبرت ہے، اور ناموسِ صحابہ کے تحفظ کے لیے سخت قانون سازی ناگزیر ہے۔
مولانا سید سبطین شاہ نقوی (سرگودھا) نے اپنے بیان میں کہا کہ شرک انسانیت پر سب سے بڑا ظلم ہے جبکہ توحید کا فروغ امن و سلامتی کی ضمانت ہے۔ مولانا یٰسین حیدر (ڈیرہ غازی خان) نے کہا کہ مدارس اسلام کی قلعے ہیں، جہاں سے ایمان کے سپاہی تیار ہوتے ہیں۔
مولانا بنیامین عابد (اوکاڑہ) نے کہا کہ دینی تعلیم کا اصل مقصد عمل ہے اور انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہے۔ حافظ سلمان اعظم (صدر، اہل حدیث یوتھ فورس ڈسکہ) نے کہا کہ صحابہ کرام کی عزت ایمان کا لازمی جز ہے اور ان کے خلاف زبان درازی ضلالت ہے۔
مولانا یوسف پسروری (لاہور) نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کا اخلاق و کردار انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے انہی کے اسوہ حسنہ کی پیروی ضروری ہے۔ مولانا سیف اللہ خالد ملتانی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرح حدیث کی حفاظت کا بھی ذمہ لیا ہے، اور حدیث کی حجیت امتِ مسلمہ کے ہاں مسلمہ حقیقت ہے۔
تقریب کے اسٹیج سیکرٹریز کے فرائض حافظ احمد حقیق، حافظ عبدالغفور مدنی، مولانا سعد محمد مدنی، مولانا عکاشہ مدنی اور مولانا عمر عبدالحمید نے سرانجام دیے۔
اختتام پر جامعہ کے 74 طلباء میں سنداتِ فراغت اور انعامات تقسیم کیے گئے۔ جلسے میں جہلم کے علاوہ دینہ، سوہاوہ، پنڈ دادنخان، چکوال، گجرات، منڈی بہاؤالدین، گوجرخان، کلرسیداں، دولتالہ اور میرپور آزاد کشمیر سمیت مختلف علاقوں سے قافلوں کی صورت میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔


