مانچسٹر: برطانیہ کی نئی ویزا اسکیم مختلف خرابیوں اور غلطیوں کے باعث ڈیجیٹل ونڈرش اسکینڈل کو جنم دے سکتی ہے ۔
’’ اوپن رائٹس‘‘ گروپ نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ڈیجیٹل دستاویزات کا نظام ڈیٹا کی غلطیوں،نظام کے کریش ہونے اور دیگر خرابیوں کا شکار ہے۔
لاکھوں تارکین وطن پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایک نئی وی ویزا اسکیم کیلئے رجسٹر ہوں مذکورہ اسکیم کو جو سال کے آخر میں متعارف کرائی جائے گی فزیکل بائیو میٹرک رہائشی اجازت نامے کو تبدیل کرنے کیلئے ڈیزائن کی گئی ہے جو باالخصوص ایسے لوگوں کیلئے ہوگی جو ڈیجیٹل ای ویزا کے ساتھ رہائش، کرایہ، کام اور دعوی فوائد کے حق کا ثبوت دکھاتے ہیں ۔
اوپن رائٹس گروپ نے نئی رپورٹ شائع کی جس میں یہ خدشات پیدا کئے گئے ہیں کہ ای ویزا کے ڈیزائن، رول آؤٹ اور نفاذ میں خامیوں کی وجہ سے جن لوگوں کو برطانیہ میں رہنے کا حق ہے وہ اسے ثابت نہیں کر پائیں گے۔
رپورٹ کے مصنفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 1 جنوری 2025کو نافذ ہونے سے پہلے اس سکیم کو روک دے۔ اوپن رائٹس گروپ کی رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب ہوم آفس ان لوگوں پر زور دے رہا ہے جنہیں ای ویزا کی ضرورت ہے یہ ثابت کرنے کیلئے کہ انہیں برطانیہ میں رہنے کا حق ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ متعدد تنظیموں کو4ملین پاؤنڈزکی مدد فراہم کر رہے ہیں بشمول ہوم آفس کنٹریکٹر مائیگرنٹ ہیلپ ان کمزور لوگوں کی مدد کیلئے جو مدد کے بغیر ای ویزا حاصل کرنےکیلئے جدوجہد کر سکتے ہیں نیا ڈیجیٹل ویزا حکومت کے یوکے بارڈر اور امیگریشن نظام کو ڈیجیٹل کرنے کے منصوبوں کا حصہ ہے، بہت سے جسمانی امیگریشن دستاویزات جیسے کہ بائیو میٹرک رہائشی اجازت نامہ (بی آر پی)ان لوگوں کیلئے جن میں داخل ہونے،رہنے کی غیر معینہ مدت کی چھٹی ہے یا اپنے امیگریشن کے حقوق کو ثابت کرنےکیلئے بائیو میٹرک رہائشی کارڈ اب تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
برطانیہ میں2لاکھ لوگوں کے بارے میں خاص طور پر تشویش ہے جن کے پاس میراثی دستاویزات ہیں جو اپنے یہاں ہونے کا حق ثابت کرتی ہیں اور جن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پہلے بی آر پی کیلئے درخواست دیں گے اور پھر یوکے، کے ویزا اور امیگریشن اکاؤنٹ کیلئے درخواست دیں گے جیسا کہ ونڈر اسکینڈل کے ساتھ ہے،ان کا رجحان بڑی عمر کے لوگ ہوتے ہیں جنہیں شاید یہ معلوم نہ ہو کہ انہیں ای ویزا کیلئے درخواست دینے کی ضرورت ہے جب تک کہ وہ صحت یا دیگر عوامی خدمات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں۔
اوپن رائٹس گروپ میں مائیگرنٹ ڈیجیٹل جسٹس کے پروگرام مینجر سارہ الشریف نے کہاکہ ای ویزا سکیم ایک اور ناکام حکومتی آئی ٹی پروجیکٹ ہے جس کے برطانیہ میں ہزاروں لوگوں کی زندگی بدلنے والے نتائج ہو سکتے ہیں۔ای ویزا درخواستوں کی آخری تاریخ کے ساتھ ہم نئے سیکرٹری داخلہ سے اگلے سال ڈیجیٹل ونڈرش اسکینڈل کو روکنے کیلئے فوری کارروائی کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔
وزراء کی طرف سے لوگوں سے ای ویزا کیلئے آن لائن اندراج کرنے کی تاکید کی گئی ہے جن کے پاس اب جسمانی امیگریشن دستاویزات ہیں انہیں ایک ایسے اکاؤنٹ کیلئے رجسٹر ہونا چاہئے جو انہیں ہر بار ضرورت پڑنے پر ایک نیا آن لائن اسٹیٹس پیدا کرنے کی اجازت دے گا چونکہ صارفین کے پاس اسٹیٹس کا کوئی فزیکل یا محفوظ شدہ ڈیجیٹل ثبوت نہیں ہے۔
اوپن رائٹس گروپ کا کہنا ہے کہ وہ ڈیٹا کی خرابیوں، سسٹم کے کریشوں اور انٹرنیٹ کنکشن کے استحکام کیلئے حساس ہیں اور ہزاروں غلطیوں کی پیش گوئی کرتے ہیں۔


