پنڈدادنخان: وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن اور انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب عبدالکریم کی ہدایات کی روشنی میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم شفیق احمد چوہدری نے تھانہ پنڈدادنخان اور تھانہ للِہ میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا، جہاں اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اپنے مسائل پیش کیے۔
کھلی کچہریوں کے دوران شہریوں نے پولیس سے متعلقہ شکایات اور دیگر مسائل بیان کیے، جن پر ڈی پی او جہلم نے فوری کارروائی کے احکامات جاری کرتے ہوئے متعدد مسائل موقع پر ہی حل کرنے کی ہدایت دی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پبلک سروس ڈلیوری کے معیار کو بہتر بنانا جہلم پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
ڈی پی او جہلم شفیق احمد چوہدری نے شہریوں کو یقین دلایا کہ اگر کسی کو مقامی پولیس کے رویے یا تفتیشی عمل پر اعتراض ہو تو وہ براہ راست ان سے رابطہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی جی پنجاب اور آر پی او راولپنڈی ڈویژن کی ہدایات پر ضلع بھر میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن کا مقصد شہریوں کو ان کی دہلیز پر فوری انصاف فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلا جھجھک کھلی کچہریوں میں آ کر اپنے مسائل بیان کریں تاکہ ان کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے۔
امن کمیٹی کے ممبران کے ساتھ ایک اہم اجلاس
بعد ازاں ڈی پی او جہلم نے تھانہ پنڈدادنخان میں امن کمیٹی کے ممبران کے ساتھ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، بازاروں اور تجارتی مراکز کی سیکیورٹی، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ڈی پی او نے تاجروں اور امن کمیٹی کے ارکان پر زور دیا کہ وہ مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی مشتبہ صورتحال کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور عوام کے باہمی تعاون سے ہی جرائم کا مؤثر سدباب ممکن ہے۔ اس موقع پر امن کمیٹی کے ممبران نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
تفتیشی افسران کے ساتھ اجلاس
مزید برآں ڈی پی او جہلم کی زیر صدارت تھانہ پنڈدادنخان اور تھانہ للِہ میں تفتیشی افسران کے ساتھ بھی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس ڈی پی او پنڈدادنخان سرکل، متعلقہ ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران زیر تفتیش دیرینہ مقدمات اور نامکمل چالانوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈی پی او نے ہدایت کی کہ پراسیکیوشن کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے اور مقدمات کو بروقت یکسو کر کے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے ایس ڈی پی او کو ہدایت دی کہ تمام مقدمات کے چالان مقررہ مدت 14 یوم کے اندر عدالتوں میں جمع کروانے کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے رپورٹ ہائے 173 ض ف کی بروقت تکمیل اور عدالتوں میں ترسیل انتہائی ضروری ہے، جبکہ ریکارڈ کی تکمیل پر خصوصی توجہ دی جائے۔
ڈی پی او جہلم نے سپروائزری افسران کو ہدایت کی کہ وہ تھانہ جات میں ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران کے ساتھ باقاعدہ میٹنگز کا انعقاد کریں اور پینڈنگ روڈ سرٹیفکیٹس کی بروقت یکسوئی کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ تمام تھانہ جات اور سرکل افسران کی کارکردگی کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کیا جا رہا ہے، اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی جبکہ ناقص کارکردگی پر سخت بازپرس کی جائے گی۔


