جہلم شہر سمیت ضلع کی چاروں تحصیلوں میں چینی کی شدید قلت نے شہریوں اور دکانداروں کو چکرا کر رکھ دیا۔
سرکاری نرخ 173 روپے فی کلو مقرر ہیں لیکن دکاندار ان نرخوں پر چینی فروخت کرنے سے انکاری ہیں۔ بعض دکانداروں کا مؤقف ہے کہ سرکاری ریٹ پر چینی بیچنے سے انہیں فی کلو واضح نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
دوسری جانب متعدد دکانداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ بڑے تھوک کے تاجر اور ذخیرہ اندوز جان بوجھ کر سپلائی محدود کر کے مارکیٹ میں مصنوعی بحران پیدا کر رہے ہیں۔ شہریوں نے شکایت کی کہ وہ نقد رقم لے کر بازاروں میں دھکے کھانے پر مجبور ہیں جبکہ کئی مقامات پر چینی مقررہ نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق شہر میں ڈیلرز 50 کلو والا تھیلا 9 ہزار 200 روپے سے زائد قیمت پر فروخت کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں بازاروں میں چینی کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری خوراک اور کمشنر راولپنڈی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ چینی بحران ختم ہو اور شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔


