60سالہ قدیم مگر لاوارث ڈسپنسری
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی نظر کرم کی منتظر
تحریروں کے بولنے کا ذکر تو سنا اور پڑھا بھی ہے لیکن یہ جو کتبوں کے بولنے کی بات ہے تو ذرا غور کرنے والی بات ہے کیونکہ کتبے تو عموماً قبروں پر نصب ہوتے ہیں جو صرف یہ اطلاع کرتے ہیں کہ اس قبر میں کس فرد کی میت دفن ہے ، لیکن یہ جو کتبے مضمون کی پیشانی پرآویزاںکیے گئے ہیں یہ تو کچھ اور ہی بول رہے ہیں۔
ان کتبوں پر کندہ تحریر کے مطابق عرصہ 53سال قبل حاجی راجہ عنایت اللہ خان سپرنٹنڈنٹ پولیس ریٹائرڈ کی تحریک پر میڈیکل ڈسپنسری و مرکز بہبود زچہ و بچہ پڑی درویزہ کی تعمیراُن کے مبلغ پچیس ہزار روپیہ کے عطیہ سے جو اپنے مرحوم فرزندکیپٹن عطا اللہ خان پائلٹ پی آئی اے کے ایصال ثواب کے لئے پیش کیا۔ ان کی عطا کردہ اراضی 8کنال 15مرلے پر سال 1961ء میں شروع کی گئی اور ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ کونسل کی مزید گرانٹ مبلغ 54305/-روپیہ سے یہ منصوبہ 1963ء میں اور رہائشی مکانات عملہ متعلقہ 1965ء میں زیر اہتمام ڈسٹرکٹ کونسل جہلم پایہ تکمیل کو پہنچے ۔
ساتھ والا دوسرا کتبہ یہ بتا رہا ہے کہ نقاب کشائی سنگ بنیاد دار الشفا کیپٹن عطا اللہ خان ڈسٹرکٹ کونسل ڈسپنسری پڑی درویزہ تحصیل و ضلع جہلم بدست مبارک عالیجناب سید محمود الحسن شاہ صاحب ستارہ قائد اعظم سی ایس پی کمشنر راولپنڈی ڈویژن بتاریخ 27اپریل 1968ء بمطابق 28محرم الحرام 1388ھ بروز ہفتہ ہوئی۔
ان معلومات کے مطابق ڈسپنسری کی عمارت کی عمر اب 59سال ہو چکی ہے ۔تعمیر کی تکمیل کے ابتدائی سالوں میں موجودہ تحصیل صدر مقام سوہاوہ سے موجودہ ضلع چکوال کے صدر مقام تک کوئی بڑا دارالشفا موجود تک نہ تھا ، تاریخ شاہدہے کہ اس ڈسپنسری میں ڈاکٹر فخر السلام جیسے مایہ ناز ماہر امراض چشم آنکھوں کے آپریشن کرتے رہے ہیں۔
جب پڑی درویزہ میں بجلی کو دور دور تک نام و نشان تک نہ تھا اس ابتدائی عرصہ کے دوران یہ ڈسپنسری علاقہ بھر کے لیے بہترین طبی خدمات فراہم کرتی رہی ہے لیکن پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ کیونکہ چراغوں میں تیل ڈالنے والے گردش زمانہ کے نتیجہ میں اس ڈسپنسری کے بانی جن کا ذکر نصب شدہ کتبوں پر جلی حروف میں درج ہے علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور 1970ء کی دہائی کی ابتدا ء سے مذکورہ ڈسپنسری لا وارث ہونا شروع ہو گئی۔
پھر وقت گزرتا گیا،1996ء میں نا معلوم حکومتی پالیسی کے نتیجے میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر چندے عرصہ کے لیے اس قدیمی ڈسپنسری کو نصیب ہوا ۔ تاہم زیادہ عرصہ اس ڈسپنسری کو ایک ڈسپنسر کے رحم کو کرم پر چھوڑ دیا گیا۔
اصل میں 1970ء کے بعد سے ہی کیپٹن عطاء اللہ خان ڈسٹرکٹ کونسل سول ڈسپنسری پڑی درویزہ سے سرکاری طور گورنمنٹ رورل ڈسپنسری پڑی درویزہ کر دیا گیا،اصل سرکاری نام پس پشت کر دیا گیا نیز اس ڈسپنسری میں آویزاں ایک عدد سپاسنامہ اور بانیان ڈسپسنری کی بڑی تصاویر نامعلوم طریقے سے غائب کر لی گئیں ان وجوہ کے گہرے سمندر میں جاؤں تو بہت کچھ بے نقاب ہو گا جس کی اس وقت ضرورت نہیں ۔ عرصہ دراز تو دو ڈسپنسر یہاں رہے۔
راقم الحروف سماجی خدمات کے سلسلے میں 1990ء سے سرگرم عمل ہو گیا تھا ۔ پھر صحافت کا شعبہ بھی اپنا لیا تھا ، معمول کا سفر حیات جاری تھا کہ 2014ء میں مخلص قلمی ہم سفر طارق محمود طالب معروف کالم نگار ،موجودہ چیف ایڈیٹر طلب صادق نیوز چینل اور اپنی مٹی سے محبت کرنے والے چند عام سماجی کارکنان ساتھ لے کر ، 10سال سے سرتوڑ کاوشیں جاری ہیں لیکن بے سود کیونکہ حقائق حقائق ہوتے ہیں اور حقائق مقدس ہوتے ہیں۔
یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ الحاج راجہ عنائت اللہ خان سپرنٹنڈنٹ پولیس ریٹائرڈ نہ صرف ایک اعلیٰ صلاحیت والے انسان تھے بلکہ صاحب حییثت زیادہ تھے اس لئے موصوف کے دل سے نکلنے والی بات اثر رکھتی تھی کیونکہ پاکستان کے سماجی ڈھانچے کے اندر کوئی بات اس وقت اثر پذیر ہو سکتی ہے جب یہ بات کرنے والا صرف بلا صلاحیت نہ ہوبلکہ صاحب حیثیت بھی ہو۔
واضح رہے کہ 1960ء کی دہائی میں سابق مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان تھے اور راجہ عنائت اللہ خان سپر نٹنڈ نٹ پولیس ریٹائرڈجیسے صاحب حییثت افراد کی برائے راست رسائی ان تک تھی اسی حیثیت کی وجہ سے ”کیپٹن عطا اللہ خان ڈسٹرکٹ کونسل سول ڈسپنسری پڑی درویزہ ”یا دیگر دو بڑے تاریخی عوامی فلاحی منصوبوں کا قیام ممکن ہو سکا ،آج اگر ہم یا کوئی سماجی جذبوں سے سرشار فرد متحرک ہے تو اخلاص کے متعلق تو کوئی بات نہیں ہو سکتی لیکن پاکستان میں کوئی بھی فلاحی یا ترقیاتی منصوبہ منظور اور مکمل کروانے کے لئے صرف صلاحیت نتیجہ خیز نہیں ہوسکتی بلکہ با اثر حیثیت کا ہونا از حد لازمی ہے ۔
یہ کتبوں کی زبان کی وضاحت سے لیس تحریر کاش تاریخ میں پہلی بار منتخب ہونے والی وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز تک واقعی پہنچ سکے اور پھر یہ الفاظ موصوفہ کے دل میں واقعی اثر پذیر ہو سکیں تو شاید ۔۔۔۔۔،ورنہ ایسی کئی تحریریں سپر دقلم ہو گئیں ،اخبارات و رسائل کے صٖفحات کی پہلے ہی زینت بن چکی ہیں، کئی درخواستیں سرکاری دفاتر کی فائلوں کی زینت بن کر پرانی ہو گئیں لیکن کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہو سکا ، وجہ وہی کہ صرف صلاحیت نہیں بلکہ حیثیت کا ہونا لازمی ہے صرف جذبے،نہیں بلکہ بڑے عہدے ہو نا بھی لازمی ہوتا ہے تب کوئی بڑے علاقائی منصوبے پائیہ کو پہنچنا ممکن ہو سکتے ہیں۔
ہم المرقومین الحروف گزشتہ دس سالوں سے متعدد ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ،اسسٹنٹ کمشنرز، کئی ایک ڈپٹی کمشنرز، چیف ایگزیکٹو آفیسرز (ہیلتھ) ضلع جہلم، سابق وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری حتیٰ کہ مسلم لیگ ن کے سابق سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم تک اپنے وفود لے کر جا چکے ہیں اور اس تاریخی ڈسپنسری کو بحیثیت بنیادی مرکز صحت اپ گریڈ کرنے کی درخواست کر چکے ہیں لیکن ہماری ہر صدا، صدائے صحرا ثابت ہوئی۔
ہم ہیں کہ قلمی قوت کے نتیجے میں اپنے علاقہ کی 20ہزار بے یار و مدد گار محنت کش آبادی کو ایک قدیمی ، تاریخی ڈسپنسری سے بنیادی مرکز صحت تک لے کرجانا چاہتے ہیں صرف اور صرف اپنی قلمی ، تخلیقی صلاحیتوں کے بل بوتے پر جاری رکھے ہوئے ہیں ۔حالآنکہ صلاحیت کسی با اثر طبقے کی مرہون منت نہیں ہوتی جبکہ ہمارا معاشرہ تو حیثیت کو ترجیح دیتا ہے جو ایک زمینی حقیقت ہے اور واقعی ہے۔
اس ساری صورت حال کے باوجود صوبہ پنجاب کی تاریخ میں سیاست کی آگ کے دریا کو عبور کر کے آنے والی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے وزیر اعلیٰ کا قلمدان سنبھالنے پر صرف صلاحیتوں سے لیس ہم دو اہل قلم کی امیدوں کے بجھتے ہوئے چراغوں کی لو ایک بار پھر بھڑک اٹھی ۔
نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب کے کام کرنے کا پرجوش انداز اور صحت عامہ کے لیے ان کی ترجیحات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم ایک بار پھراپنے سماجی جذبے سے سر شار ساتھیوں کو ساتھ لے کر چل نکلے ہیں اور اپنے الفاظ کے دوش ک پر سوار کرتے ہوئے اپنے علاقہ کے بے زبان محنت کش عوام کی صدا بلند کر نے کی ٹھان لی ہے ، کیونکہ موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے ذمہ داریوں کا قلمدان سنبھالنے کے بعد سے اب تک ایئر ایمبولنس سروس کی فراہمی ، فری میڈیسن ہوم ڈیلوری پراجیکٹ تک کا افتتاح کر چکی ہیں ،حتیٰ کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے متعلق خود ادویات مریضوں کے گھروں تک جانے کی خبریں بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔
اگر موصوفہ کے چچا اور سابق وزیر اعلیٰ المعروف خاوم اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی بات کی جائے تو ایک طالب علم کی کاپی کے صفحہ پر لکھے دستی رقعہ میں ایک ثانوی تعلیمی ادارے میں کمپیوٹر لیب کے مطالبہ پر پورے صوبہ پنجاب میں ہر ثانوی تعلیمی ادارے میں کمپوٹر لیب قائم کر دی جاتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اسی وزیر اعلیٰ پنجاب کی بھتیجی ’’بولتے کتبوں کی زبان‘‘ کو کس طرح دیکھتی ہیں اور صرف صلاحیتوں سے لیس ہم بھی اپنی امیدوں کے چراغ لے کر صرف اپنی قلمی صلاحیتوں کے ب ل بوتے پر اور سچے سماجی فلاحی جذبوں کو ساتھ لئے یہ سطور سپرد قلم کر رہے ہیں شاید یہ سطور وزیر اعلیٰ پنجاب کے دل میں اثر کر جائیں اور پیشانی پرپیش کردہ کتبوں پر کنندہ الفاظ کو سمجھنے کے بعد خصوصی شفقت کرتے ہوئے ہماری مذکورہ تاریخی کیپٹن عطا اللہ خان ڈسٹرکٹ کونسل سول ڈسپنسری پڑی درویزہ کو بطور کیپٹن عطا اللہ خان بنیادی مرکز صحت پڑی درویزہ تک اپ گریڈ کرنے کے لیے کوئی خصوصی اقدام یا حکم صادر فرما دیں۔
اسی مکتوبی مضمون کے ذریعے ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مذکورہ ڈسپنسری کا رقبہ اور عمارت جائزہ لینے پر پتا چل سکتا ہے کہ یہاں بہت تھوڑا سرکاری بجٹ درکار ہے کیونکہ عمارت کا ڈھانچہ تھوڑی مرمتی کے بعد پورا بنیادی مرکز صحت رو بعمل ہو سکتا ہے ۔ اہل دانش کے مطابق تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے لیکن انداز اور تقاضوں کی تبدیلی کے ساتھ ،اس لئے یہ مضمون ایک امید کے کرن کے طور پر ہوائی لہروں کے دوش پر سوار کر رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب تک پہنچیں اور وہاں سے کوئی انقلابی اعلان منظر عام پر آجائے ۔
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

پروفیسر افتخار محمود
فون نمبر 03065430285 – 03015430285
طارق محمود طالب
فون نمبر : 03215049167


