ن لیگ میں ٹکٹوں کے جھگڑے۔۔۔!

اب تک کے فیصلوں سے یہ تو صاف ہے کہ ن لیگ الیکشن میں سولوفلائیٹ نہیں کررہی۔مسلم لیگ ن آنے والے انتخابات میں یہاں تک ممکن ہے وسیع ترانتخابی اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فارمولے پرعمل پیراہے۔اس کی بڑی وجہ اور شاید حقیقت بھی یہی کہ ن لیگ کو صوبہ پنجاب کی جماعت کہا جاتا ہے تو اس تاثر کو زائل کرنے اوردوسرے صوبوں میں کسی نہ کسی طرح حکومتوں کا حصہ بننے کے لیے ایسے اتحادناگزیر ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ ن لیگ کو یہ ٹاسک بھی دیا گیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے علاوہ باقی سب کو ساتھ لے کر چلے ۔یہاں تک کہ اگر پیپلزپارٹی سے الیکشن سے پہلے نہیں تو الیکشن کے بعد بھی ملنا پڑے تو گریز نہیں کرے گی۔ن لیگ اس وقت تک کے پی کے میں مولانا فضل الرحمان سے ہاتھ ملا چکی ہے اور سندھ میں ایم کیوایم کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہے ۔بلوچستان میں ن لیگ نے اپنے پرانے ساتھیوں کو پارٹی میں شامل کرلیاہے تاکہ اس صوبے میں خود حکومت بنائی جاسکے۔

دوسری جماعتوں کے ساتھ معاملات تو طے کیے جارہے ہیں لیکن ن لیگ کے اپنے اندرٹکٹوں کے لیے گھمسان کی جنگ جاری ہے۔اس میں دوطرح کے مسائل ہیں ۔ایک تو وہ حلقے ہیں یہاں ن لیگ نے ق لیگ اوراستحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنی ہے ۔ق لیگ کو تو ان کی پہلے سے جیتی ہوئی نشستیں ہی دی جائیں گی وہ تین یا چار قومی اسمبلی کی نشستیں ہیں اور پانچ سے سات پنجاب اسمبلی کی سیٹیں ہوسکتی ہیں۔ان کو دینا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوگا۔

دوسری طرف اب استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کا آغاز ہوگیا ہے۔لاہورمیں استحکام کے صدر علیم خان اورعون چودھری کی سیٹوں پر سمجھوتہ طے پاگیاہے ان دونوں حلقوں میں ن لیگ استحکام کا ساتھ دے گی اور اپنے امیدوارکھڑے نہیں کرے گی۔ استحکام لاہور سے ہی مراد راس کی سیٹ کے لیے بھی کہہ رہی ہے لیکن ابھی تک ن لیگ نے اس کی حامی نہیں بھری ۔ممکن ہے مراد راس کو کسی اور جگہ ایڈجسٹ کرلیا جائے۔ن لیگ میں ان دوپارٹیوں سے معاملات سے بھی بڑا ایک اور ایشو ہے ۔

ن لیگ میں ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران ایک ایشو تو وہ ہے جو لوگ پی ٹی آئی سے منحرف ہوکر سندھ ہاؤس میں چلے گئے تھے اور عدم اعتماد کے وقت پی ٹی آئی سے نکل کراسمبلی میں موجود رہے تھے ۔ان ایم این ایز سے اس وقت شہبازشریف نے ن لیگ کی ٹکٹ کا وعدہ کیاتھااب اس وعدے کو نبھانے کا وقت ہے تو وہ لوگ ٹکٹوں کے امیدواربھی ہیں اور وعدے کے مطابق حقدار بھی۔ایسے کیسز میں مثال کے طورپر دوتین حلقے بڑے اہم ہیں۔

سب سے دلچسپ صورتحال جڑانوالہ میں طلال چودھری کے حلقے میں ہے۔ اس حلقے میں دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے نواب شیر و سیر طلال چودھری کو شکست دے کر قومی اسمبلی پہنچے تھے۔ عدم اعتماد کے وقت نواب شیر وسیر نے بھی پی ٹی آئی کو خیرآباد کہہ کر ن لیگ کے ٹکٹ کے وعدے پر شہبازشریف کا ساتھ دیا تھا۔نواب شیر وسیر نے فیصل آباد سے ہی اپنے دوست راجا ریاض کو ٹکٹ کا گواہ بنالیا تھا۔

طلال چودھری الیکشن لڑنے کے لیے اہل ہوئے تو انہوں نے ٹکٹ کے لیے کوشش شروع کردی۔اس وقت نواب شیر وسیر اور طلال چودھری دونوں ہی اس ایک حلقے میں انتخابی مہم چلارہے ہیں اوردونوں ہی ن لیگ کی ٹکٹ ملنے کے دعویداربھی ہیں۔ طلال چودھری کے دعووں کو دیکھ کر نواب شیر وسیر نے راجا ریاض کو ساتھ لیا اور لاہور آگئے۔ انہوں نے شہبازشریف سے خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق کی موجودگی میں ملاقات کی جس میں ان تینوں نے راجا ریاض اور نواب شیر وسیر کو وعدے کے مطابق ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کرادی۔

طلال چودھری کی وجہ سے ن لیگ نے نواب شیروسیر کو صوبائی ٹکٹ کی پیشکش کی تھی جو انہوں نے قبول نہیں کی۔دوسری طرف طلال چودھری کو بھی پارٹی نے سینیٹ کے ٹکٹ کی آفرکی تھی لیکن وہ بھی قومی اسمبلی کے ٹکٹ کے لیے آخری وقت تک انتظارمیں ہیں۔نواب شیر وسیر شہبازشریف سے ٹکٹ کے امیدوارہیں تو طلال چودھری مریم نوازسے امید لگاکربیٹھے ہیں اور ان کو مسلسل پیغامات بھیج رہے ہیں کہ انہوں نے پارٹی کے لیے قربانی دی ہے اس لیے ٹکٹ ان کا حق ہے ۔اب اس ٹکٹ کا فیصلہ نوازاور شہبازدونوں نے کرنا ہے اور یہاں بھی فیصلہ مزاحمت اورمفاہمت کے درمیان ہی ہونا ہے۔

اسی طرح کا ایک کیس جہلم کے حلقے میں بھی ہے یہاں فواد چودھری کے کزن فرخ الطاف بھی سندھ ہاؤس کے مکین بن کر ن لیگ کے ساتھ چل پڑے تھے۔اس وقت ن لیگ جشن منارہی تھی کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے دبنگ رہنما فواد چودھری کے گھر نقب لگادی ہے اوران کے کزن سے پی ٹی آئی چھڑوالی ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے لیکن آج جب ٹکٹ کی باری آئی ہے تو ان کو حلقے میں چودھری ندیم خادم کی پارٹی خدمات یاد آنے لگی ہیں۔ چودھری ندیم خادم اپنی لابنگ میں مصروف ہیں کہ فرخ الطاف تو لوٹا ہے اور پارٹی لوٹوں کو ٹکٹ کی بجائے ن لیگ کے دیرینہ ورکرکا انتخاب کرے۔

فیصل آباد کے ہی ایک حلقے میں راجا ریاض بھی ہیں اس حلقے میں رانا افضل نے اٹھارہ کا الیکشن ن لیگ کے ٹکٹ پرلڑاتھا لیکن جیت راجاریاض کی ہوئی تھی۔ راناافضل کا انتقال ہوچکا ہے ۔ان کے بیٹے رانا احسان افضل سیاست میں آگئے ہیں لیکن شاید پارٹی ان کو صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ پر راضی کرچکی ہے اس لیے راجا ریاض کے ٹکٹ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

ن لیگ میں ایک اور جنگ بھی جاری ہے ۔ن لیگ کے وہ رہنما جو سینئرہیں اور پارٹی میں ان کی چلتی بھی کافی ہے وہ اپنی سیاسی وراثت اگلی نسل کو منتقل کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ان میں احسن اقبال ،رانا ثنا اللہ، رانا تنویراور حنیف عباسی جیسے لوگ شامل ہیں جن کی خواہش ہے ان کے بیٹوں کوان کے ساتھ صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ مل جائے ۔ ان لوگوں کی اپنی اولاد کے لیے ٹکٹوں کی خواہش بھی کئی حلقوں میں جھگڑوں کی وجہ بن رہی ہے ۔ان کی اولادوں کو ٹکٹ ملنے سے ان حلقوں میں ن لیگ کے اہل کارکنوں کی حق تلفی ہونا یقینی ہے ۔اگر کارکنوں پرٹکٹ کے لیے اولادوں کو ترجیح دے دی جاتی ہے تو ممکن ہے ایسے حلقوں میں ن لیگ تقسیم ہوجائے اور کچھ لوگ آزاد الیکشن لڑنے کی کوشش کریں۔

ایک ایشو اوربھی ن لیگ میں ٹکٹوں پر جھگڑوں کی وجہ بن رہاہے ۔یہ سلیکٹوموریلٹی (منتخب اخلاقیات) کا ایشو ہے۔ن لیگ کے کچھ رہنما یہاں ان کے مفادات ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ٹکٹ کسی لوٹے کو نہیں ملنا چاہئے جیسا کہ احسن اقبال اور دانیال عزیزکی لڑائی میں سامنے آیا کہ احسن اقبال اپنے بیٹے کو ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں اور دانیال عزیزکی خواہش ہے کہ ان کے نیچے اویس قاسم کوٹکٹ مل جائے۔

اویس قاسم پی ٹی آئی چھوڑ کر ن لیگ میں واپس آیا ہے جس کو احسن اقبال لوٹا کہہ کر ٹکٹ کے مخالف ہیں لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے کہ احسن اقبال اویس قاسم کو لوٹا کہہ کر مخالفت کررہے ہیں لیکن عین اسی وقت پی ٹی آئی سے منحرف ہوکر ن لیگ میں آنے والی وجیہہ اکرم کو وہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر ایم این اے بنانے کا وعدہ کررہے ہیں۔

اسی طرح طلال چودھری اپنے حلقے میں نواب شیر وسیر کو لوٹاکہہ کر ان کو ٹکٹ دینے کے مخالف ہیں لیکن عین اسی وقت پی ٹی آئی کے دھرنے میں تندورلگانے والے خان بہادر ڈوگر کو اپنے ساتھ لے کر حلقے میں مہم چلارہے ہیں اور ان کو ن لیگ کے ٹکٹ کا آسرابھی دے رکھا ہے۔ن لیگ کے پاس اس اخلاقی کرائسزکا کوئی جواب نہیں ہے۔ایسی پالیسی کہیں موجود نہیں ہے کہ لوٹوں کو ٹکٹ دینے ہیں یا مکمل پابندی لگاکر اصولوں کا ثبوت دینا ہے۔

یہ کچھ مسائل ہیں جن کا ن لیگ اس وقت ٹکٹوں کی تقسیم میں سامنا کررہی ہے ۔ن لیگ میں ٹکٹوں کے فیصلے آخری مراحل میں ہیں ۔آئندہ چند روز میں پورے ملک کی ٹکٹوں کے فیصلے کرلیے جائیں گے ۔ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد واضح ہوگا کہ کون اس تقسیم سے راضی ہوتا ہے اور کون ناراض ۔ایک تاثریہ بھی ہے کہ پارٹی میں شہبازگروپ کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے اورمریم گروپ کے عقاب سائیڈلائن کیے جارہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button