پانچ فروری کا دن ہم اظہارِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کشمیر کی مدد کرو، کس طرح مدد کرو؟ ایک منٹ کے لیے خاموشی اختیار کرلو۔ کوئی فوت ہو گیا، کیا کرو؟ اس کے لیے موم بتی جلا دو۔ یہ اصول کہاں سے لیے ہیں؟ غزوات و سرایا کوئی نہیں پڑھے۔ ریاستِ مدینہ کے قیام میں حالات کوئی نہیں پڑھے۔ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس کی نظر جس طرف گئی، اس پر جان، مال اور اولاد قربان۔ آپ کی ذات تو بہت بلند ہے۔ کیسی کیسی تکالیف سے آپ ﷺ گزرے؟
ہم کیا کہتے ہیں؟ "بولو نہیں، دشمن مارے گا۔” بنیاد رکھتے ہو ریاستِ مدینہ کی۔ ایسی صورتِ حال میں مدد بھی پہنچے گی، حالات بھی بدلیں گے۔ ضرورت کیا ہے؟ اپنے پاؤں پر تو کھڑے ہوں اور اس کھڑے ہونے کے لیے نورِ ایمان چاہئے۔
مخلوقِ خدا کو انصاف دلانا جس قوم کے ذمے تھا، وہ خود مظلوم ہے۔ اس پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ کشمیر میں جو ظلم ہو رہا ہے، اگر ہم اس تسلی میں بیٹھیں کہ وہ صرف وہیں تک رکے گا، تو یہ ہماری غلطی ہے۔ اس کی مثال جنگل کی آگ کی طرح ہے۔ ایک کونے میں جہاں سے آگ لگے گی، وہاں جو کچھ ہے وہ تو جلے گا، باقی جنگل کے درخت یہ محسوس کریں کہ یہ آگ آگے نہیں آئے گی، ایسا نہیں ہے۔ اللہ جانے کس رُخ کی ہوا چلے اور وہ آگ کہاں تک بڑھتی چلی جائے؟
یہ وہ موضوعات ہیں جو ہم سمیت اور خصوصی مقتدر حصے، جو ذمہ داران ہیں، ان کو دیکھنے چاہئیں۔ جب ہم سارے من حیث القوم اپنی اپنی حیثیت میں صرف اپنا وقت گزارنے کو دیکھیں گے کہ "میرے پاس جو وقت ہے یہ اچھا گزر جائے”، تو ہم اپنی اولاد کو کیا دے کر جا رہے ہیں؟ نہ ہماری کوئی قدر سلامت رہی، نہ ہمارا کوئی اخلاق سلامت ہے، اور نہ ہی دین میں کوئی اتفاق و اتحاد رہا۔
جب بھی کوئی بیماری اٹھتی ہے، اس کا جتنا بھی علاج کر لیں، اگر اس کے سبب کا علاج نہ ہو تو وہ بیماری ٹھیک نہیں ہوتی۔ اگر کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے تو جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں، وہاں جا کر دیکھ لیں، وہاں کیا ہو رہا ہے؟ یہاں، جہاں میں اور آپ مخاطب ہیں، یہاں انصاف کے تقاضے دیکھ لیں۔ اپنی زندگیوں میں انصاف دیکھ لیں۔ جہاں میرا اور آپ کا اختیار ہے، وہاں اپنے ایک ایک عمل کو جانچ کر دیکھ لیں۔ کیا ہم انصاف کر رہے ہیں؟ کیا ہم سچ بول رہے ہیں؟ کیا ہمارے معاملات انصاف کی گواہی دیتے ہیں؟
جو جس حیثیت میں ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ "یہ نظامِ ہستی میں چلا رہا ہوں۔ مجھ سے کوئی نہ پوچھے۔” گلوبل دنیا کو دیکھیں تو پوری دنیا میں امتِ مسلمہ کمزوری اور زوال کی طرف جا رہی ہے۔ جہاں جہاں ظلم ہو رہا ہے، ہم اظہارِ ہمدردی کر رہے ہیں۔ اس اظہار کو دیکھیں تو دکھ ہوتا ہے۔
ایک وقت تھا جب مسلمان عددی حصے میں کم تھے اور غیر مسلم مظلوم کا مداوا کرنے کا سبب تھے۔ آج، عددی حصوں میں مسلمان قوم دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے، لیکن کسی کا مداوا تو کجا، خود مظلوم ہے۔ کیا فرق ہے؟ اسلام۔ وطنِ عزیز کے کسی پہلو پر بات ہو، ہمارے کشمیری بھائیوں کی تکالیف کا اظہار ہو، اس اظہارِ یکجہتی میں پوری پاکستانی قوم کا یک زبان کھڑا ہونا ضروری ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں۔ امتِ مسلمہ، ظالم، مظلوم، ساری بحث ہے۔ لفظِ اسلام پر کوئی بات نہیں ہو رہی۔
ہم جو بھی قدم اٹھا رہے ہیں یا جس راہ پر چل رہے ہیں، کاش ایک لفظ پر متفق ہو جائیں: اسلام۔ اگر ہم عمومی معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں، تو زندگی میں کتنے زیروبم آتے ہیں؟ پسند و ناپسند کے کتنے پہلو آتے ہیں؟ لیکن جب جہاد بالنفس کی بات آئے گی، تو اپنی ہر خواہش کو ربِ کائنات کے حکم پر قربان کر دیا جائے گا۔
جہاں کلام ذاتی جہاد بالنفس کی تعلیم دے رہا ہے، جہاں ارشاداتِ محمد الرسول اللہ ﷺ جہاد بالنفس کی نزاکت بیان فرما رہے ہیں، وہاں ایسے حالات میں جہاد بالسیف کا بھی ارشاد فرمایا گیا ہے۔ میں نے آج تک لفظِ جہاد کا اظہار کسی کی زبان سے نہیں سنا۔ جب ہم اصل مرض پر نہیں جائیں گے تو دوا ممکن نہیں ہے۔
میرے کہنے کا یہ مقصد نہیں کہ مجھے جو سن رہے ہیں، وہ تلوار اٹھا لیں۔ اس کا بھی نظام ہے۔ اس ذمہ داری کا تعین اسلام فرماتا ہے۔ جتنا کردار میرے ذمے ہے، اور جتنا کردار مقتدر حصوں اور عامۃ الناس سے لے کر آخری طاقت رکھنے والے بندے تک ہے، ان مظلومین کے ایک ایک خون کے قطرے کا حساب روزِ محشر سب کو دینا ہو گا۔
آج ہم بچتے رہیں: "فلاں ملک ناراض ہو جائے گا، فلاں قوم ناراض ہو جائے گی۔” کتنے مہینوں سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے؟ جہاں کرفیو نافذ ہوتا ہے، وہاں نقل و حرکت رک جاتی ہے۔ آپ غور تو کریں؟ کتنے دن؟ وہاں دوا تو کجا، کھانے کا نوالہ میسر ہے یا نہیں؟ ہمیں نہیں معلوم۔ کسی کی عزت کا لٹنا تو کجا، کسی کی عزت محفوظ رہی یا نہ رہی، ہمیں یہ بھی معلوم نہیں۔
یہ وطنِ عزیز بڑی قربانیوں کے بعد ہمیں نصیب ہوا ہے۔ اس کے اندر تقسیم در تقسیم ہمارے کردار نے کی ہے۔ دشمنی کا سبب بنتا ہے تو دشمنی ہوتی ہے۔ اس وطنِ عزیز کے دشمن، اس کے وجود میں آنے سے پہلے موجود ہیں۔ یہ سب کچھ یہی نہیں کہ ساری ہمارے بے عملی کے نتائج ہیں یا ہم خرابی کر رہے ہیں۔ ہماری بے عملی اور خرابی ہمیں اندھا کر رہی ہے۔
کشمیر کو کیا کہتے ہیں؟ جنت نظیر۔ جنت میں شیطان کا تصور نہیں ہے، وہاں شیطان نہیں ہے۔ یہ جو جنت نظیر کہا جاتا ہے اور وہاں شیاطین بیٹھے ہیں؟ یہ کیا ہے؟ یہ ہماری بے عملی کے نتائج ہیں۔ وہ اسباب جو ہمارے عروج کے تھے، آج ہمارے اندر نہیں ہیں اور ان کا نہ ہونا ہمارے زوال کا سبب ہے۔ دنیا میں جب آپ ظالم کو دیکھیں، وہ مارتا بھی ہے اور رونے بھی نہیں دیتا۔


