Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: کھیل کے میدان، ذہنی سکون اور کھویا ہوا بچپن
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

کھیل کے میدان، ذہنی سکون اور کھویا ہوا بچپن

میاں فیصل
میاں فیصل
2 اکتوبر, 2025
شیئر کریں
شیئر کریں

ہمارے معاشرے میں ایک بڑا المیہ تیزی سے جنم لے رہا ہے کہ نئی آبادیوں اور ہاؤسنگ سوسائیٹیوں میں بچوں کے کھیلنے کے لیے علیحدہ میدان یا پارکس موجود ہی نہیں ہوتے۔ وہ زمینیں جہاں کبھی شام ڈھلتے ہی کرکٹ، فٹبال اور لُکن میٹی کے شور سے گونجتی تھیں، آج بلند و بالا عمارتوں، کمرشل پلازوں اور کنکریٹ کے جنگل میں دفن ہو گئی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہمارا بچپن، جو کھیل اور قہقہوں کی چہکار سے جڑا تھا، آہستہ آہستہ اپنی خوشبو کھوتا جا رہا ہے۔

چھوٹے بچے، جنہیں جسمانی سرگرمی اور کھیل کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، ان کے اسکولوں کا رقبہ عموماً پانچ مرلے سے زیادہ نہیں ہوتا۔ اس محدود رقبے میں کلاس رومز تو بن جاتے ہیں لیکن کھیل کے میدان کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر پرائیوٹ اسکولوں کے طلبہ کھیل کود جیسی بنیادی ضرورت سے ناآشنا رہتے ہیں۔ ان کے دن صرف کتابوں اور امتحانوں کی بھاری ذمہ داریوں میں گزر جاتے ہیں۔

یہ محرومی صرف وقت گزاری یا تفریح کی کمی نہیں بلکہ بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت پر گہرے منفی اثرات ڈال رہی ہے۔ کھیل وہ درسگاہ ہے جو بچے کو برداشت، تعاون، جیت اور ہار کے اصول سکھاتی ہے۔ یہ میدان وہ جگہ ہیں جہاں بچہ گر کر اٹھنا، ہار کر سنبھلنا اور ٹیم ورک کی اہمیت سمجھتا ہے۔ مگر جب کھیلنے کے مواقع ہی ختم ہو جائیں تو بچے ذہنی دباؤ، تنہائی، چڑچڑاپن اور کم اعتمادی کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ جدید تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ کھیل سے محروم بچہ بعد میں شخصیت کی کئی کمزوریوں کا سامنا کرتا ہے۔

یہی نہیں، کھیل کے میدانوں کی کمی پاکستان میں نئے ٹیلنٹ کے فقدان کی بڑی وجہ بھی ہے۔ آج ہم کرکٹ، ہاکی یا فٹبال میں نئے نام کم دیکھتے ہیں کیونکہ گلی محلے کا وہ ماحول باقی ہی نہیں رہا جہاں ایک عام بچہ اپنے خوابوں کو پر لگا کر آگے بڑھ سکتا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں پاکستان کھیلوں کی دنیا میں مزید پیچھے رہ جائے گا۔

بدقسمتی سے، ہماری ترجیحات میں تعلیم اور صحت کی طرح کھیل بھی کبھی شامل نہیں رہا۔ سرکاری سطح پر اس جانب توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ سوسائٹیاں اور بلڈرز صرف گھروں اور پلازوں کے نقشے بناتے ہیں، لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ان گھروں میں رہنے والے بچوں کو بھی کھلی فضا اور کھیلنے کے لیے محفوظ ماحول درکار ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو ذہنی طور پر تھکی ہوئی، جسمانی طور پر کمزور اور معاشرتی طور پر غیر متوازن ہوگی۔

ہمیں بحیثیت معاشرہ اور حکومت، دونوں کو اس پر فوری طور پر سوچنے اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر نئی سوسائٹی میں کھیل کے میدان اور پارکس کو لازمی قرار دیا جائے۔ اسکولوں کے لیے مخصوص رقبہ مقرر کیا جائے تاکہ تعلیم کے ساتھ کھیل بھی نصاب کا لازمی حصہ بنے۔ والدین کو بھی اپنی ترجیحات میں یہ بات شامل کرنا ہوگی کہ وہ بچوں کو کھلی فضا اور کھیل کے مواقع دیں۔

کھیل کے میدان صرف بچوں کی تفریح کے لیے نہیں، بلکہ یہ قوم کے مستقبل کی ضمانت ہیں۔ صحت مند بچہ ہی کل کا صحت مند نوجوان بنے گا، اور صحت مند نوجوان ہی ایک روشن پاکستان کی بنیاد رکھے گا۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ اگر آج ہم نے کھیل کے میدانوں کو آباد نہ کیا تو کل ہمارے خواب اور ہماری قوم دونوں ویران ہو جائیں گے۔

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
29°C
Jhelum
clear sky
29° _ 29°
75%
2 km/h
پیر
39 °C
منگل
37 °C
بدھ
37 °C
جمعرات
36 °C
جمعہ
33 °C

تازہ ترین

جہلم میں شہدائے کربلا اور نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا گیا
9 اگست, 2026
پی ڈی ایم اے نے مون سون کا 5 واں اسپیل شروع ہونے کی پیشگوئی کردی
9 اگست, 2026
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم سنگ میل ہے، چوہدری فرخ الطاف
9 اگست, 2026
جہلم میں کرپشن کے خلاف آگاہی واک، شفافیت اور دیانت داری کے فروغ کا عزم
9 اگست, 2026
جعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کے خلاف کارروائیاں سخت، 100 سے زائد مشکوک گاڑیاں پکڑی گئیں
9 اگست, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

لاش چاہیئے یا چالان؟

1 دسمبر, 2025

مولوی غلام محی الدین، محدث گوڑھا

28 نومبر, 2025

قلزمِ فیوضات حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ

2 مارچ, 2025

خدا کا خوف کرو کچھ تو رحم کرو

4 دسمبر, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں