Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: سرکاری سکول : عروج سے زوال کا سفر
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

سرکاری سکول : عروج سے زوال کا سفر

شاہد صدیقی
شاہد صدیقی
2 مارچ, 2025
شیئر کریں
شیئر کریں

ابتدائی تعلیم کی فراہمی کسی بھی ریاست کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔ پاکستان میں آرٹیکل 25-Aآئین کاحصہ بنا دیا گیا ہے‘ جس میں بچوں کی تعلیم کومفت اورلازمی قرار دیاگیاہے۔

پاکستان کے حوالے سے بچوں اورنوجوانوں کوتعلیم کی فراہمی اس لیے بھی اہم ہے کہ یہاں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ نوجوان جوکسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں‘ وہ معاشرے کی تعمیروترقی میں اہم کردارادا کرسکتے ہیں لیکن اس کی اہم شرط یہ ہے کہ وہ زیورِتعلیم سے آراستہ ہوں۔ اس سلسلے میں ملک کے سرکاری سکول بنیادی کردارادا کرسکتے ہیں۔

یہ سکول کاروبار کے ماڈل کوسامنے رکھ کر نہیں بنائے گئے بلکہ ان کااہم مقصد نوجوانوں کو تعلیم کی فراہمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سرکاری سکولوں میں کوئی فیس نہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں تقریباً سارے سکول سرکارکے تھے۔ ان سکولوں کی وسیع و عریض عمارات تھیں جہاں کشادہ میدان ہوتے تھے اور کھیلوں پرخاص توجہ دی جاتی تھی۔

اسی طرح غیر نصابی سرگرمیوں کا خاص طور پر اہتمام کیا جاتا جن میں تقاریر‘مباحثے‘بیت بازی‘ مشاعرے‘ مضمون نویسی کے مقابلے ہوتے تھے۔سکولوں میں معائنے (Inspection) کا ایک مؤ ثر نظام موجود تھا۔سکولوں کی فیس معمولی ہوتی۔ ان سکولوں کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں امیروں اور غریبوں کے بچے ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ سکولوں میں اکیڈیمک ڈسپلن ہوتا تھا۔ اُس زمانے کے ہیڈماسٹر دورونزدیک جانے جاتے تھے۔ اس زمانے میں اِکا دُکا پرائیویٹ ادارے تھے جن کی تعداد انگلیوں پرگنی جاسکتی تھی۔

پیپلزپارٹی کے دورمیں جب تمام اداروں کونیشنلائز کیا گیاتواس میں دوطرح کی قباحتیں سامنے آئیں‘ ایک طرف تومعروف پرائیویٹ ادارے اپنی درخشندہ روایات سے محروم کر دیے گئے ‘دوسری طرف غیرمعیاری تعلیمی اداروں کوقانونی تحفظ مل گیا۔ اس سے اگلے دورمیں جنرل ضیا الحق نے تمام انگلش میڈیم اداروں کواُردومیڈیم میں بدلنے کااعلان کیا‘ لیکن یہ اقدام بغیرکسی تیاری کے کیاگیا تھااس لیے جلد ہی اس کے غیرحقیقی ہونے کااحساس ہوگیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ضیاء الحق جو پرائیویٹ انگلش میڈیم سکولوں کے خلاف تھے‘انہی کے دور میں پرائیویٹ سکولوں کاقیام تیزی سے عمل میں آناشروع ہوا اور مشرف کے دور میں پرائیویٹ سکولوں کو واضح طورپرحکومتی آشیرباد حاصل ہوگئی۔

میں یہاں اس امر کی وضاحت کرناچاہتا ہوں کہ ملکی آبادی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی سرکاری سکولوں کے ہمرا ہ ملک کو درپیش ناخواندگی کے چیلنج کاسامنا کریں لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب حکومتوں نے نہ صرف سرکاری سکولوں کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا بلکہ اپنے طرزِعمل سے یہ تاثر دیا کہ معیاری تعلیم صرف پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں کئی ایسی سکیموں کا اعلان کیا گیا جن کے مطابق پرائیویٹ سیکٹر اور مختلف این جی اوز کو سرکاری سکولوں کو گود لینے (adopt) کا کہا گیا۔

2011ء میں ہزاروں سرکاری سکولوں کوانتظامی تنظیم کے تحت ملک کے مختلف صوبوں میں بند کردیاگیا۔ادھر تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچے تعلیم کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جبکہ42فیصدآٹھویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے سکول چھوڑدیتے ہیں۔ یہ تعداد ہمارے لیے غیرمتوقع اس لیے نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان میں تعلیم کبھی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔

عالمی دنیاکی معاشی اورمعاشرتی ترقی میں تعلیم کے بنیادی کردار اوراس کی اہمیت کوسمجھنے کے باوجود ہم پاکستان میں تعلیم کی بہتری کے لیے انتظامی حوالے سے کوئی قابلِ قدر سنجیدہ کوششیں نہیں کرسکے۔ معاشی‘ تعلیمی ترقی کے عہدمیں پاکستان میں تعلیم کے لیے مختص بجٹ 1 اعشاریہ 7فیصد ہے جو تشویشنا ک حد تک کم ہے۔ حکومت کے سرکاری سکولوں کے خلاف اس انتہائی اقدام کی بنیادی وجوہات بہت سی تھیں تاہم گھوسٹ سکول بنائے گئے‘جوسیاسی دباؤکانتیجہ تھے۔

یہ وہ سکول تھے جن میں طلبا کی تعداد بہت کم تھی اوراس کے اردگرد متعددسکول موجود تھے۔ یہ وجوہات اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہیں تاہم بعض اہم وجوہات جن کی بدولت صورتحال یہاں تک پہنچی‘کے متعلق ابھی تک بات نہیں کی گئی۔ اس کی ایک وجہ پرائیویٹ سکولوں کی استعداد کار ہے جس نے سرکاری سکولوں کی تعداد کوکم کرنے میں کردار ادا کیاہے۔ جس کے نتیجے میں متعددسرکاری سکولوں میں طلبا کی تعداد کم ہوئی ہے اوروہ اس انتظامی تنظیم نو کا شکارہوئے ہیں۔ سرکاری سکول جواپنے تعلیمی معیار کی وجہ سے جانے جاتے تھے‘ اب ویرانوں کاروپ دھارچکے ہیں۔اس کے برعکس پرائیویٹ سکولوں میں طالب علموں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہاہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 35.2فیصدطلبا پرائیویٹ سکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ تعلیمی پالیسی بنانے والوں اورمحققین کے لیے یہ بات اہم ہے کہ وہ سرکاری سکولوں کی تنزلی سے متعلق اصل وجوہات کوسمجھیں۔ان میں سے ایک اہم وجہ تعلیم میں نیو لبرل ازم فلسفے کا نفوذہے‘ جوگزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان کے نظام تعلیم میں دیکھاجاسکتا ہے۔ نیو لبرل ازم کی اہم خصوصیت آزادانہ مقابلہ‘ ریاست کی عدم مداخلت‘زیادہ سے زیادہ منافع کاحصول اورمحنت کارکااستحصال ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پرائیویٹ سکول ریاست کی مداخلت سے مبرا‘ آزاد مقابلے کی فضا میں سانس لیتے ہوئے نظرآتے ہیں۔اس طرح کی آزادی سرکاری سکولوں کے حوالے سے ناقابلِ تصور ہے۔

عالمی دنیاکے پھیلاؤکے نتیجے میں متعدد ملٹی نیشنل اوردیگرتجارتی کمپنیوں نے پاکستان میں تجارتی مراکز کھولے ہیں۔ اس صورتحال نے انگریزی زبان کے کردار کو اچھی ملازمت کے حصول کے لیے فوقیت دی ہے۔ اس سے انگلش میڈیم سکولوں نے اتنی مقبولیت حاصل کی ہے کہ یہ پاکستان کے شہری علاقوں کے کونوں کھدروں میں پھیل گئے ہیں اور اب ان کادائرہ پاکستان کے دیہات تک پھیلتا جارہاہے۔

سرکاری سکولوں کی صورتحال‘ اساتذہ کی عدم دستیابی‘ کمرہ جماعت سے غیرحاضری اور احتساب (accountability) نہ ہونے کی وجہ سے روزبروز خراب ہوئی ہے جبکہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے کاروباری مہارتوں کے ساتھ ساتھ ان کی بہتر پیشکش (presentation) میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ اسی طرح انہو ں نے انگریزی زبان کی ضرورت اوراس کی ڈیمانڈ سے بھی فائدہ اٹھایاہے۔والدین انگلش میڈیم سکولوں میں ایک خاص طرح کی کشش محسوس کرتے ہیں۔ انگریزی زبان کی روانی کی مہارت کے علاوہ یہ سکول ایک طرح کا معاشرتی وقار اوررتبہ حاصل کرنے کے مواقع بھی مہیا کرتے ہیں۔

اس حوالے سے ریاست کاکردار اہم ہے لیکن حکومت بجائے اس کے کہ سرکاری سکولوں کومضبوط بنائے‘نہ صرف ہتھیارڈال چکی ہے بلکہ غیرسرکاری تنظیموں(NGOs)کی حوصلہ افزائی کررہی ہے کہ وہ ان سکولوں کاانتظام وانصرام کرے۔ریاست کے اس سرد رویے نے سرکاری سکولوں پرآخری وار کیاہے۔ انتہائی قلیل فنڈنگ‘ بے توجہی اور فرسودہ انتظامی قواعد وضوابط سرکاری سکولوں کے مسلسل زوال کاباعث بن رہے ہیں۔

پاکستان کی تعلیمی ضروریات کوپورا کرنے کے لیے ہمارے پاس صرف پرائیویٹ سیکٹرہی واحد ذریعہ نہیں ہوسکتا کہ جوسرکاری سکولوں کانعم البدل ہواوروہ تعلیم دینے کے وسیع پیمانے اوراس کے اعلیٰ معیار کے چیلنجوں کوپورا کرسکے؛ اگر ہم تعلیم کے میدان میں بہتری کے خواہاں ہیں تو حکومتی سطح پر سرکاری سکولوں کی سر پرستی کرنا ہو گی۔ ان کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرناہو گا اور انہیں ایسی فضا مہیاکرنی ہو گی جہاں ان کی اعلیٰ تخلیقی صلاحیتیں بیدار ہوسکیں۔

 
تحریر:‌شاہد صدیقی
 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
29°C
Jhelum
clear sky
29° _ 29°
75%
2 km/h
پیر
39 °C
منگل
37 °C
بدھ
37 °C
جمعرات
36 °C
جمعہ
33 °C

تازہ ترین

جہلم میں شہدائے کربلا اور نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا گیا
9 اگست, 2026
پی ڈی ایم اے نے مون سون کا 5 واں اسپیل شروع ہونے کی پیشگوئی کردی
9 اگست, 2026
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم سنگ میل ہے، چوہدری فرخ الطاف
9 اگست, 2026
جہلم میں کرپشن کے خلاف آگاہی واک، شفافیت اور دیانت داری کے فروغ کا عزم
9 اگست, 2026
جعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کے خلاف کارروائیاں سخت، 100 سے زائد مشکوک گاڑیاں پکڑی گئیں
9 اگست, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

مولوی غلام محی الدین، محدث گوڑھا

28 نومبر, 2025

ڈاکٹر اسد ۔۔ عاجزی اور خدمت کا نام

3 جنوری, 2026

آئی کے گجرال: جہلم کا وہ سپوت جو انڈیا کا پہلا پنجابی وزیراعظم بنا

30 نومبر, 2023

فواد چوہدری کا قصور

6 مارچ, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں