Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: تکبر کی سیاست تین خاندان کھا گئی
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

تکبر کی سیاست تین خاندان کھا گئی

محمد امجد بٹ
محمد امجد بٹ
14 نومبر, 2024
شیئر کریں
شیئر کریں

جہلم کے تین سیاسی خاندانوں کا شمار ان اہم خاندانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے برسوں سے اس علاقے میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھا ہے۔ یہ خاندان عوام کی طاقت اور سیاسی منظرنامے کی گہرائیوں سے بخوبی واقف تھے، اور اپنے تجربے اور حکمت عملی سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، ان خاندانوں میں غرور اور اقتدار کا نشہ بڑھتا گیا، جس نے انہیں عوامی خدمت اور زمینی حقائق سے دور کر دیا۔ یہ سیاسی تکبر ان کے زوال کا سبب بن رہا ہے، اور اگر انہوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مقامی سیاست میں ان کی جگہ کوئی اور لے لے گا۔

یہ حقیقت ہے کہ اقتدار اور طاقت اکثر انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ سیاسی میدان میں قدم جمانے والے بہت سے سیاست دان اپنی طاقت کو قائم رکھنے کے لیے عوامی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن جب تکبر کی سیاست اپنا رنگ دکھاتی ہے تو اس کا مطلب عوام سے دوری اور حقیقی مسائل سے لاتعلقی ہوتا ہے۔ جہلم کے ان تین خاندانوں کا حال بھی ایسا ہی ہوا۔ ان خاندانوں نے اپنی سیاسی زندگی میں ایک وقت ایسا دیکھا جب ان کی بات کو علاقے کے عوام بڑی اہمیت دیتے تھے، مگر اب وہی عوام ان سے دور ہو چکی ہے۔

یہ خاندان عوام کو ایک ایسا نظریہ دینے میں ناکام رہے جس سے وہ خود کو منسلک محسوس کر سکیں۔ عوام کو توجہ، عزت اور احترام کی ضرورت ہوتی ہے، اور جب یہ انہیں نہیں ملتا تو ان کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ عوام اس حقیقت سے آگاہ ہو چکی ہے کہ جن رہنماؤں کو انہوں نے اپنی خدمت کے لیے منتخب کیا تھا، وہ اب اپنی ذات اور اپنی خواہشات کے گرد گھومتے ہیں۔ جب سیاست میں ذاتی مفاد اور تکبر آ جاتا ہے تو عوام کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔

یہ کہاوت "نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری” بالکل اس صورت حال کو بیان کرتی ہے۔ اگر یہ خاندان خود کو ٹھیک نہ کر سکے اور اپنے طرزِ عمل میں بہتری نہ لائے تو مستقبل میں ان کے پاس نہ طاقت باقی رہے گی اور نہ ہی عوام میں ان کی عزت۔ عوام کی خدمت اور اُن کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکامی ان خاندانوں کے زوال کا سبب بنے گی، اور ان کا وہ سیاسی ورثہ جسے انہوں نے برسوں سے سنبھال کر رکھا تھا، ماضی کا قصہ بن جائے گا۔

آج کے دور میں عوامی شعور پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ عوام جانتی ہے کہ وہ کس طرح کے رہنماؤں کی ضرورت رکھتے ہیں، اور اگر ان کے منتخب کردہ نمائندے اُن کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہیں اور اپنے ہی مفادات کو ترجیح دیں تو عوام انہیں ترک کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔ یہی وجہ ہے کہ نئے رہنما سامنے آ رہے ہیں، جو عوامی مسائل کو سنجیدگی سے سننے اور انہیں حل کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

ان تین خاندانوں کے لیے وقت ابھی بھی ہے کہ وہ اپنے طرزِ عمل پر غور کریں اور اس حقیقت کو سمجھیں کہ ان کی بقا کا انحصار عوام سے مضبوط تعلق پر ہے۔ اگر وہ عوام کی فلاح و بہبود اور ان کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کریں، ان کے مسائل کو حل کرنے میں دل چسپی لیں، تو شاید ان کے لیے ایک اور موقع پیدا ہو جائے۔

لیکن اگر ان خاندانوں نے اپنے رویے میں تبدیلی نہ لائی تو مقامی سیاست میں ان کا اثر ختم ہو جائے گا، اور ان کے نام کے ساتھ جڑا ہوا وہ بانس، جو ان کی شناخت کا ضامن ہے، خود ہی ختم ہو جائے گا۔ تب "نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری” ایک تلخ حقیقت بن جائے گا۔

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
31°C
Jhelum
clear sky
31° _ 31°
71%
2 km/h
پیر
40 °C
منگل
39 °C
بدھ
37 °C
جمعرات
35 °C
جمعہ
37 °C

تازہ ترین

جہلم میں شہدائے کربلا اور نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا گیا
9 اگست, 2026
پی ڈی ایم اے نے مون سون کا 5 واں اسپیل شروع ہونے کی پیشگوئی کردی
9 اگست, 2026
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم سنگ میل ہے، چوہدری فرخ الطاف
9 اگست, 2026
جہلم میں کرپشن کے خلاف آگاہی واک، شفافیت اور دیانت داری کے فروغ کا عزم
9 اگست, 2026
جعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کے خلاف کارروائیاں سخت، 100 سے زائد مشکوک گاڑیاں پکڑی گئیں
9 اگست, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

ڈاکٹر اسد ۔۔ عاجزی اور خدمت کا نام

3 جنوری, 2026

ن لیگ میں ٹکٹوں کے جھگڑے۔۔۔!

13 فروری, 2024

نئی حلقہ بندیاں اور جہلم کی سیاست؛ کیا موروثی سیاست کا سورج غروب ہونے والا؟

3 جون, 2026

رمضان راشن کارڈ نہیں ہیلتھ اور ایجوکیشن کارڈ

18 مارچ, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں