جہلم: ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال جہلم میں صفائی کے فرائض انجام دینے والے درجنوں نجی سینٹری ورکرز گزشتہ چار ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ متاثرہ ملازمین نے ڈپٹی کمشنر دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے اپنے زیرِ التوا واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا۔
پُرامن مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر جہلم کی گاڑی کو روک کر اپنی حالتِ زار سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ونہار کمپنی کی جانب سے گزشتہ چار ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں، جس کے باعث ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔
متاثرہ ملازمین کے مطابق طویل عرصے سے تنخواہیں نہ ملنے کے باعث وہ اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہیں، جبکہ دکانداروں نے بھی مسلسل ادھار کے باعث مزید راشن اور اشیائے ضروریہ دینے سے انکار کردیا ہے۔
مظاہرین نے کہا کہ وہ روزانہ ہسپتال میں صفائی ستھرائی اور مریضوں کے لیے صاف ستھرا ماحول برقرار رکھنے کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں، لیکن کئی ماہ سے اپنی محنت کی اجرت سے محروم ہیں۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور متعلقہ کمپنی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے چار ماہ کی زیرِ التوا تنخواہیں بلا تاخیر جاری کی جائیں تاکہ سینٹری ورکرز کو درپیش مالی مشکلات کا خاتمہ ہوسکے۔
دریں اثنا، احتجاج کے دوران پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کی گاڑی کو مظاہرین کے درمیان سے بحفاظت نکال لیا۔ متاثرہ سینٹری ورکرز نے واضح کیا کہ ان کا احتجاج پُرامن ہے اور وہ صرف اپنی جائز محنت کی اجرت کے حصول کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔


