سوہاوہ: ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ کی یونین کونسل ججیال کا تاریخی گاؤں تراٹی جدید دور میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ قیامِ پاکستان کو 78 برس گزر جانے کے باوجود گاؤں کے مکین آج بھی ایک پختہ سڑک کی سہولت کے منتظر ہیں جبکہ بارشوں کے موسم میں علاقہ مکمل طور پر کٹ کر رہ جاتا ہے۔
مین روڈ سے گاؤں تراٹی تک کا فاصلہ محض تین کلومیٹر ہے، لیکن یہ مختصر راستہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پختگی کا منتظر ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعدد ادوار میں منتخب نمائندوں اور متعلقہ حکام کو اس اہم مسئلے سے آگاہ کیا گیا، مگر اب تک کوئی عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔
مقامی ذرائع کے مطابق بارش کے دوران کچا راستہ شدید کیچڑ اور پھسلن کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہو جاتا ہے، جس کے باعث گاؤں کا رابطہ قریبی آبادیوں اور شہری مراکز سے منقطع ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال سے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی بچے سکول جانے سے محروم رہ جاتے ہیں، جس سے ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق سب سے سنگین صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی مریض کو فوری طبی امداد کی ضرورت پیش آ جائے۔ پختہ سڑک اور ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ ہونے کے باعث مریضوں کو چارپائی پر اٹھا کر تقریباً تین کلومیٹر کا دشوار گزار راستہ طے کرکے مین روڈ تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ انہیں ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث کئی مرتبہ مریضوں کی حالت تشویشناک ہو جاتی ہے، جو ایک سنگین انسانی مسئلہ ہے اور فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
شہریوں نے اس دیرینہ محرومی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور رکن قومی اسمبلی چوہدری فرخ الطاف سے مطالبہ کیا ہے کہ گاؤں تراٹی کو مین روڈ سے ملانے والی تین کلومیٹر طویل سڑک کی فوری منظوری دی جائے اور تعمیراتی کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے تاکہ ہزاروں شہریوں کو درپیش مشکلات کا مستقل حل ممکن بنایا جا سکے۔
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ پختہ سڑک نہ صرف سفری سہولت فراہم کرے گی بلکہ تعلیم، صحت اور روزگار سمیت زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی مثبت تبدیلی کا باعث بنے گی۔


