جہلم کے 6 مرلے مکان کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

جہلم: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اورجسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے مہر بابر انور کی جانب سے مہرمحمد اشرف اوردیگر کے خلاف جہلم میں واقع 6مرلہ مکان کے معاملہ پرلاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے فیصلے کے خلاف دائردرخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار کی جانب سے میاں محمد یٰسین بطور وکیل پیش ہوئے۔ وکیل نے بتایا کہ 24ستمبر 2011کو مکان درخواست گزار مہربابر انوار کے دادا مہر عبدالرشید نے اسے حبہ کیا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کس نے کس کو دیا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ اٹارنی نے گفٹ کردیا۔ جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا تھا کہ رقم کی ادائیگی بھی کی ہے توپھر حبہ کیسے ہو گیا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ حبہ کی زبانی ہے۔ اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ رجسٹرڈ دستاویز ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کس نے کس کو حبہ کیا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ مہرعبدالرشید کی طرف سے درخواست گزارکوہوا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار کے وکیل کو ہدیاتی کہ کس نے کس کو کیا؟ جلدی پڑھ دیں۔

اس پر وکیل کاکہناتھا کہ دادانے پوتے کوکیا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ڈونی کون ہے۔ اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ درخواست گزاربابرانور۔ وکیل کا کہنا تھا اٹارنی کے ذریعہ حبہ کیا۔ جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا تھا کہ بیٹے نے باپ سے خریدا اور پھر بیٹے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے باپ کو پاورآف اٹارنی دی۔ جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ اٹارنی مالک نہیں ہوتا کسی کی طرف سے ہوتا ہے، اپنی طرف سے نہیں کرتا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ یہ جہلم میںپراپرٹی ہے۔

چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وکیل صاحب!ہر چیز تین، تین مرتبہ پوچھنا پڑرہی ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ چھ مرلے کاگھر ہے جو کہ جہلم میں واقع ہے۔ چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہ ثبوت دکھادیں، اس پر وکیل کا کہنا تھا کس چیز کا؟، اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا نکاح نامے کا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مختارنامہ کی کاپی، حبہ ، گفٹ دستاویز دکھادیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ دستاویز کہاں ایکسیکیوٹ ہوئی، کس کے پاس ہوئی ، سب رجسٹرارجہلم کے پاس براہ راست یا پاورآف اتارنی کے ذریعہ۔ وکیل نے بتایا کہ 30 جنوری 2012 کو مہر عبدالرشید کاانتقال ہوا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا خودکیوں اس نے گفٹ نہیںکی۔ جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا تھا کہ بیٹے نے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے پاور آف اٹارنی انتظامی امور چلانے کے لئے باپ کودیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کس طرح تیاری کرکے آتے ہیں، کچھ تواپنے پیشہ کاخیال کرلیں۔ جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ اٹارنی توایک ایجنسی ہو گئی وہ خود گفٹ نہیں دے سکتا۔ جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا تھا کہ کس طرح پاور آف اٹارنی پر گفٹ ہو گیا، دادامالک تونہیں تھا، مدعا علیہ خود بھی گفٹ کرسکتا تھا کیوں داداکے ذریعہ گفٹ کیا، کوئی چوائس بھی نہیں دی۔

جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ درخواست کہہ رہے کہ مہر عبدالرشید نے 30لاکھ روپے میں مکان خریدا، کبھی کہتے ہیں خریدا ہے کبھی کہتے ہیں گفٹ کیا ہے، اس کا مطلب ہے یہ فیصلہ ٹھیک ہے۔ جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا تھا کہ جب خرید لیا توپھر گفٹ کیوں کیا، قانون سب کے لئے برابر ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ میری استدعا ہے کہ مدعا علیہ اپنا دعویٰ ثابت نہیں کرسکے۔

جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا تھا کہ فری میں توکسی کو گفٹ کرنے کا اختیار باپ کو نہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ مدعا علیہ کے اپنے چاربچے اوردوپوتے ہیں وہ کیسے پاور آف اٹارنی کے ذریعہ کسی کو زمین گفٹ کرے گا، یہ ممکن نہیں۔

چیف جسٹس نے فیصلہ لکھواتے ہوئے درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے مسترد کردی اور قراردیا کہ تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button