جہلم: کریانہ کی دکانوں پر کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء کی بھر مار ،غیر معیاری اشیاء کے استعمال سے شہریوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے، خصوصاً بچے ان اشیاء خوردونوش کے استعمال سے مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی ،ضلعی انتظامیہ کریانہ سٹورز پر فروخت ہونے والی غیر معیاری اشیاء خوردونوش کی فروخت کی روک تھام کیلئے مربوط لائحہ عمل مرتب کریں تاکہ شہریوں کو بیماریوں سے بچایا جا سکے ۔ شہری آبادیوں میں کریانہ سٹورز غیر معیاری و مضرصحت اشیاء کی فروخت سرعام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
شہریوں نے کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ناموں سے ملتے جلتے ناموں کے پیپر لگا کر شہریوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے جبکہ ان غیر معیاری اشیاء کی قیمتوں کا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے برانڈز کے مقابلے میں زیادہ فرق بھی نہیں حالانکہ مقامی سطح پر تیار کی جانے والی اشیاء خوردونوش دکانداروں کو نہایت سستی میسرآتی ہیں جنہیں دکاندار زیادہ منافع کمانے کی خاطر اپنی دکانوں پر زائد نرخوں پر فروخت کرتے ہیں زیادہ تر اشیاء پر مدت معیادتک درج نہیں ہوتی جس کے باوجود ان کی فروخت کے خلاف موثر کارروائیاں عمل میں نہیں لائی جاتیں۔
شہری علاقوں کی نسبت دیہی آبادیوں میں غیر معیاری اشیاء خورد ونوش کی شرح کہیں زیادہ ہے اور دیہات کے سادہ لوح باسی کر یا نہ سٹورز کے مالکان کے زیادہ منافع کے حصول کے لالچ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، ان غیر معیاری اشیاء کے استعمال سے خصوصا بچوں کی صحت پر نہایت منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں بچوں کو فروخت کی جانے والی غیر معیاری اشیاء میں چورن ، ٹافی ، پاپڑ ، ، بسکٹ اور چاکلیٹ سرفہرست ہیں۔
شہریوں نے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ڈپٹی کمشنر سے نوٹس لینے اور خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر کریانہ سٹورز پر فروخت کی جانے والی غیر معیاری اشیاء کو مکمل طور پر روکنے کا مطالبہ کیاہے۔


