پنڈدادنخان اور گردونواح میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، متعدد مکانات اور دکانیں منہدم ہو گئیں، نشیبی علاقے زیر آب آنے سے مکین گھروں میں محصور ہو گئے، کھیوڑہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستہ بند ہو گیا۔
جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے تینوں داخلی اور خارجی راستے دلدل اور پانی کے باعث مخدوش ہو گئے۔ کوہستان نمک اور دریائے جہلم کے درمیان میں 10 کلومیٹر پٹی کے مکین محصور ہو گئے۔ پنڈدادنخان کھیوڑہ کے پہاڑوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا، جلالپور مڑیالہ پہاڑ میں سڑک دلدل میں تبدیل ہو گئی۔
پہاڑوں سے آنے والے برساتی پانی نے دیہاتوں کا رخ کرلیا۔ رہائشی علاقے کی گلیوں اور مکانوں میں تین تین فٹ کے قریب پانی جمع ہو گیا۔ ایک دوکان، دو مکانات منہدم اور متعدد مکانات کی دیواریں گر گئیں۔ دو روز سے جاری بارش کے باعث عوام میں خوف و ہراس ہے۔ نزدیک کی چھوٹی آبادیوں اور ڈیرہ جات کے مکین اپنے مال مویشی اور قیمتی سامان سمیت محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
محلہ فاروقیہ بارش کے باعث آرے کی چھت گر گئی۔ شہر میں نکاسی آب کا موثر نظام نہ ہونے سے سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع ہو گیا۔ لاری اڈے کے داخلی راستے پر دو دو فٹ پانی کے باعث شہریوں کا گزرنا مشکل ہو گیا۔ کوٹ کلاں تا ایون عدل روڑ دلدل میں تبدیل ہو گئی۔
کندوال کے قریب پنجاب ہائی وے کے پل بارش سے متاثر ہوئے۔ ریلیف کے لیے بنائے گئے متبادل راستے بھی پہاڑی پانی کی نذر ہو گئے۔
ادھر کھیوڑہ پہاڑی میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پہاڑی تودہ سڑک پر گرنے سے راستہ بند ہو گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر پنڈدادنخان حلیمہ منیر کے نوٹس لینے کے بعد میونسپل کمیٹی کھیوڑہ کی ٹیم نے سڑک سے پہاڑی تودہ ہٹا کر سڑک ٹریفک کے لئے بحال کر دی۔


