پاکستان کشمیری عوام کی تحریک حق خوداردیت میں حمایت جاری رکھے گا، سلجوق مستنصر تارڑ، دی ہیگ میں سیمینار

دی ہیگ: سفارتخانہ پاکستان، دی ہیگ نے ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ کی مناسبت سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔

علی رضا سید، چیئرمین کشمیر کونسل یورپین یونین، یو ہانس کیرل خاص بیک، اطالوی قانون دان، پروفیسر ڈاکٹر طاہر عباس، انسٹی ٹیوٹ آف سیکیورٹی اینڈ گلوبل افیئرز، لیڈن یونیورسٹی، دی ہیگ اور نیدرلینڈز میں پاکستان کے سفیر سلجوق مستنصر تارڑ نے بطور مقررین حاضرین سے خطاب کیا۔

سیمینار میں غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندگان، ماہرین تعلیم، یونیورسٹی کے طلباء اور کمیونٹی ممبران کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے تنازع جموں و کشمیر کی تاریخی، سیاسی، قانونی اور انسانی جہتوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مقبوضہ جموں کشمیر کے ہندوستان کے یکطرفہ الحاق کے مضمرات پر بھی اظہار خیال کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سفیر سلجوق مستنصر تارڑ نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کی منصفانہ جدوجہد میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے 05اگست 2019کے ہندوستان کے غیر قانونی یکطرفہ اقدامات کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں سیکورٹی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی سپریم کورٹ کا 11دسمبر 2023کا فیصلہ ہندوستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بری نہیں کرسکتا۔ انہوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے ہندوتوا نظریہ کے تحت کشمیریوں کو محکوم بنانے اور انہیں ایک بے اختیار کمیونٹی میں تبدیل کرنے کی بھرپور مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر تنازع کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر پر صدر، وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ خصوصی پیغامات بھی شرکاء کو پڑھ کر۔ سنائے گئے۔

علی رضا سید نے اقوام متحدہ کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے حل کی کاوشوں میں بھارت کی طرف سے پیدا کی گئی رکاوٹوں کوافشاں کیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کو بیان کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں تنازع کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل میں اپنا کردار ادا کرے۔

یو ہانس کیرل خاص بیک نے کشمیری قانون دانوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی غیر قانونی نظر بندی اور ان کی آواز کو دبانے کے اقدامات پر بھارتی قابض افواج کی مذمت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر طاہر عباس نے کشمیری عوام کو درپیش مشکلات کواجاگر کیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی برادری کے ضمیر کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے خطے میں امن و سلامتی پر بھارت کے یکطرفہ اقدامات کے مضمر نتائج کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران متعدد رپورٹس میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے کشمیر میں غیر قانونی حراست اور شہری آزادی پر جبری پابندیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ گزشتہ دہائیوں سے لے کر اب تک کشمیری عوام کی مظلومیت کو نظر انداز کرنا مشترکہ اخلاقی اقدار اور انسانیت کے ساتھ غداری ہوگی۔

شرکاء کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کی موجودہ حالت زار پر ایک مختصر دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button