جہلم شہر اور گردو نواح میں سموگ کی سطح میں آہستہ آہستہ اضافہ ہونے لگا۔ ضلع بھر میں واقع کریش پلانٹس اور بھثہ خشت کی چمنیوں سے نکلنے والا کالا دھواں فضا میں زہر گھولنے لگا، محکمہ ماحولیات کے زمہ داران لمبی تان کر سو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم میں محکمہ ماحولیات کی مبینہ غفلت کے باعث کریش پلانٹس اینٹوں کے بھٹوں کو زیگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل نہ ہونے کی وجہ سے اینٹوں کے بھٹوں اور فیکٹریوں کی چلموں سے نکلنے والے زہر یلے کالے دھوئیں کی وجہ سے سموگ کی سطح میں آہستہ اہستہ اضافہ ہونے لگا ہے۔
سموگ کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، دن بدن ائیر کوالٹی انڈیکس میں بتدریج اضافہ ہوناشروع ہوچکا ہے۔ آلودگی پھیلاتے اور دھواں چھوڑتے بھٹوں اور کیمیکل زرہ دھواں چھوڑتی نجی فیکٹریوں کے خلاف کارروائیاں نہیں ہو سکیں جس سے دھواں چھوڑتی فیکٹریاں آلودگی کاباعث بننے والے کریش پلانٹس اینٹوں کے بھٹے ماحول کو آلودہ کرنے میں پیش پیش ہیں۔
بڑھتی ماحولیاتی آلودگی سے شہریوں کا سانس لینا دو بھر ہو گیا ہے، ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے شہری نزلہ زکام کھانسی دمہ سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔
شہری تنظیموں نے وزیراعلی پنجاب سے ضلع جہلم میں آلودگی کا باعث بننے والے کریش پلانٹس،بھٹہ خشت سمیت دھان کی فصل اور کوڑاکرکٹ کوآگ لگانے والے افراد کےخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیاہے۔


