پنڈدادنخان:لاہور ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی چارپائی چوری کے مقدمہ میں ضمانت منظور کر لی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی درخواست ضمانت پرسماعت کی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سیاسی بنیادوں پر مقدمات درج کئے گئے ہیں، جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان میں چارپائیاں اور دیگر اشیاء کی چوری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مقدمہ سیاسی وابستگی کے باعث درج کیا گیا، نو مئی کے مقدمات سمیت اب چوری کے مقدمات میں بھی نامزد کر دیا گیا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت مقدمہ میں درخواست ضمانت منظور کرے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد چوری کے مقدمہ میں 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔
فواد چوہدری کی مقدمات میں ویڈیو لنک حاضری کی درخواست مسترد
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی پنجاب میں درج مقدمات میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواست مسترد کردی گئی۔
جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ان کی مختلف مقدمات میں ویڈیولنک کے ذریعے حاضری کی درخواست خارج کردی۔
واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے 3 روز قبل ان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، 25 مئی کو لاہور ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی 9 مئی کے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے سمیت دیگر الزامات کے تحت پنجاب بھر میں درج مقدمات میں ویڈیو لنک پر حاضری کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی تھی۔
یاد رہے کہ فواد چوہدری کے خلاف پنجاب کے مختلف شہریوں میں 36 مقدمات درج ہیں جن میں پیشی کے لیے انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواست دائر کی تھی۔
اس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ فواد چوہدری کے خلاف پنجاب بھر میں 36 مقدمات درج ہیں، اس میں استدعا کی گئی کہ عدالتوں میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت دی جائے۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سابق رہنما کو 5 اپریل کو للَہ تا جہلم ڈیول کیرج وے پروجیکٹ میں خوردبُرد کے کیس میں اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے یکم اپریل کو مذکورہ کیس میں ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔
فواد چوہدری نیب کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید تھے اور انہوں نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔



بھائی جان اب تو ان کی جان چھوڑ دو بے چاروں کی