جہلم کی تحصیل پنڈ دادن خان جو کہ شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین کے طور پر جانی جاتی ہے، اس میں اہم تاریخی و معاشی اہمیت رکھنے والے مقامات بھی شامل ہیں، جیسے کہ کھیوڑہ کی نمک کی کان، جو عالمی سطح پر شہرت رکھتی ہے اور یہاں کی مختلف صنعتی پلانٹس جو مقامی لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہیں۔
ان سب کے باوجود، یہاں کے عوام کو ان تمام وسائل سے وہ فوائد نہیں مل رہے جو ان کا حق بنتا ہے۔ خاص طور پر جب تحصیل پنڈ دادن خان کا علاقہ ضلع جہلم سے الگ کر کے ضلع چکوال کے حصے میں ڈال دیا گیا، تب کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہاں کے عوام کی ترقی اور فلاح کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے جائیں گے۔
تحصیل پنڈ دادن خان میں سڑکوں کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے، خصوصاً سوڈی گجر سے کسلیاں تک براستہ ڈھڈیاں، غریب وال روڈ اور ساووال تا ہرن پور لنک روڈ کی حالت ناقابل بیان ہے۔ ان سڑکوں کا کوئی پرسان حال نہیں اور یہاں کے عوام ان سڑکوں کی حالت سے تنگ آ چکے ہیں۔ کھیوڑہ روڈ بھی خستہ حالی کا شکار ہے، جس سے لوگوں کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
سب سے اہم مسئلہ للِہ تا جہلم ڈیول کیرج وے کا ہے، جو پانچ سال پہلے شروع کیا گیا تھا، لیکن بدقسمتی سے ابھی تک اس کی تکمیل نہیں ہو سکی۔ اس روڈ کی بحالی نہ صرف مقامی ٹرانسپورٹرز کے لیے ضروری ہے بلکہ یہاں کے تاجروں کے لیے بھی اس روڈ کی تعمیر کا عمل اشد ضروری ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے اس روڈ کی خراب حالت کی وجہ سے مقامی کاروباری افراد اور ٹرانسپورٹرز کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
کھیوڑہ کے سیاحتی مقام سالٹ مائن تک پہنچنا اب مشکل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف ریاست کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے بلکہ علاقے کی معیشت بھی کمزور ہو رہی ہے۔ یہ سڑک نہ صرف تحصیل پنڈ دادن خان کے لیے بلکہ کئی دیگر علاقوں کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ سڑک للِہ انٹرچینج، موٹروے ایم ٹو کے اہم حصے تک رسائی فراہم کرتی ہے، جس کا براہ راست فائدہ علاقے کے مختلف حصوں کو ہوتا ہے۔ لیکن اس سڑک کے منصوبے کی تکمیل میں تاخیر نے عوامی سطح پر مایوسی اور غصے کی لہر پیدا کر دی ہے۔
ان سڑکوں کی خستہ حالت کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر حادثات ہو رہے ہیں اور ان حادثات کے نتیجے میں کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی خراب حالت کے باعث وہ خوف و ہراس میں زندگی گزار رہے ہیں اور نہ صرف شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے بلکہ کاروباری افراد بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان حادثات کی وجہ سے علاقے کی معیشت پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے کیونکہ زخمی افراد کے علاج کے اخراجات اور حادثات سے ہونے والے نقصانات نے مقامی معیشت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت فوری طور پر اس منصوبے کی تکمیل کے لیے اقدامات کرے تاکہ نہ صرف عوام کی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے بلکہ علاقے کی معیشت کو بھی فروغ ملے۔ اگر یہ مسائل جلد حل نہ کیے گئے تو اس کا اثر نہ صرف حکومت کے مقامی نمائندوں کی سیاسی ساکھ پر پڑے گا بلکہ علاقے کی ترقی اور معیشت پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
ہمیں امید ہے کہ حکومتی نمائندے اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھیں گے اور اس روڈ کی تعمیر جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے اقدامات کریں گے تاکہ تحصیل پنڈ دادن خان کے عوام کی زندگیوں میں بہتری آ سکے اور یہ خطہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکے۔
اللہ تعالی ارباب اقتدار کو ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین


