جہلم: شہر بھر میں ہوٹل مالکان نے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ہے جبکہ انتظامیہ شہریوں کے مسائل سے مکمل لاتعلق دکھائی دے رہی ہے۔ ہوٹل مالکان سرکاری نرخنامے کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر اور جی ٹی روڈ پر قائم متعدد ہوٹلز پر روٹی اور پانی کے سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے فی روٹی کی قیمت 14 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ ڈیڑھ لیٹر منرل واٹر کی بوتل پر درج قیمت سے زیادہ سے زیادہ دس روپے اضافی وصول کرنے کی اجازت ہے۔ اس کے باوجود ہوٹل مالکان روٹی 25 روپے میں اور پچاس روپے والی پانی کی بوتل 150 روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہوٹل مالکان کے خلاف کارروائی سے گریز کر رہے ہیں اور محض رسمی کارروائیوں کے ذریعے اپنی ذمہ داری نبھانے کا تاثر دے رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے شہر میں جنگل کا قانون نافذ ہے، جہاں کوئی پوچھنے والا نہیں۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر سید محمد میثم عباس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے ان منافع خور ہوٹل مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے اور اس بے لگام لوٹ مار کا خاتمہ ممکن ہو۔


