دینہ/جہلم: منگلا ڈیم کے حساس ریڈ زون ایریا میں غیر قانونی طور پر معدنیات نکالنے والے سات کرشنگ یونٹس کے خلاف ضلعی انتظامیہ اور پیرا فورس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے تمام یونٹس سیل کر دیے۔
ذرائع کے مطابق کارروائی حساس اداروں کی نشاندہی پر عمل میں لائی گئی، جہاں ممنوعہ علاقے سے پتھر، ریت، بجری اور دیگر معدنیات نکالنے کا سلسلہ جاری تھا۔ انتظامیہ نے کارروائی کے دوران دو ایکسویٹرز سمیت دیگر بھاری مشینری بھی تحویل میں لے لی۔
حکام کے مطابق منگلا ڈیم کے اطراف 20 کلومیٹر تک کے علاقے کو ریڈ زون قرار دیا جا چکا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کان کنی اور کرشنگ سرگرمی سختی سے ممنوع ہے۔
متعلقہ ادارہ EPA بھی ان کرشنگ پلانٹس کی منظوری مسترد کر چکا ہے، تاہم اس کے باوجود غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھی جا رہی تھیں۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں بے دریغ کرشنگ اور معدنیات نکالنے کے عمل سے منگلا ڈیم کی بنیادوں اور حفاظتی ڈھانچے کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جو مستقبل میں قومی سطح کے بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
انتظامیہ نے کرشنگ پلانٹس مالکان کو سخت وارننگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قومی اثاثے منگلا ڈیم کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی جبکہ ممنوعہ علاقوں میں معدنیات نکالنے والوں کے خلاف سخت قانونی ایکشن لیا جائے گا۔


