Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: فلسطین جہاد
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

فلسطین جہاد

یاسر فہمید
یاسر فہمید
19 اکتوبر, 2023
شیئر کریں
شیئر کریں

ہاں ہمیں فلسطین کے حق میں اسرائیل کے خلاف جہاد پر نکلنا چاہیے۔ یہ جہاد ہم مسلمانوں خاص طور پر پاکستانی مسلمانوں ہر فرض ہو چکا ہے اور بیشتر پاکستانی سوشل میڈیا پر جہاد کرتے بھی نظر آتے ہیں اور اکثریت دوسروں کو جہاد کی تلقین بھی کرتےہیں۔

واقعی ہم پاکستانیوں کو تو لازمی جہاد پر جانا چاہیے کیونکہ ہم یہاں پر تو اپنے اور اپنے بچوں کے لیے جہاد کی کوئی بھی قسم اپنے اوپر لازم نہیں سمجھتے ، ستر سالوں سے ہمارا استحصال ہو رہا ہے مگر ہم کلمہ حق کہنے کا جہاد نہیں کر رہے ، ہمیں ہر طرح سے سماجی و معاشی ظلم و بربریت کا سامنا ہے مگر اس کے خلاف جہاد کی بجائے فلسطین ضرور جانا چاہیے۔

ملک کی اشرافیہ ہمارے بچوں کا مستقبل چھین رہا ہے مگر ان کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے فلسطینیوں کے لیے بندوق ضرور اٹھانی چاہیے، ہمیں غلام در غلام بنایا جاتا ہے مگر اپنی ازادی کہ بجائے فلسطین کی ازادی کی جنگ ضرور لڑنی چاہیے۔

ہاں بالکل فلسطین کا جہاد ہم پر فرض ہے۔ ایک شہر کا چھوٹا سا سرمایہ دار ،جاگیردار اور سیاستدان ہمیں جب چاہیے اٹھ کر تھپڑ مار دے ہم اس کے سامنے آواز اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتے مگر امریکہ و اسرائیل کے خلاف ہمیں جہاد کی اجازت چاہیے۔ ہم سے ہمارا ووٹ لے کر اپنی مرضی کے حکمران مسلط کر دیے جاتے ہیں اور ہم اپنی ووٹ کی عزت بچانے کی سکت نہیں رکھتے مگر ہمیں فلسطینی بہنوں کی عزت کی رکھوالی کرنے ضرور نکلنا چاہیے۔

ہم اپنے گھر میں سچ بولنے اور غلط کو غلط کہنے کا اخلاقی جہاد کرنے سے قاصر ہیں مگر سات سمندر پار دوسری قوموں سے لڑنے کی تمنا ہے . ہمیں کوئی پولیس والا جھوٹے مقدمے میں پکڑ کر تھانے بند کر دے تو ہم اس نا انصافی کے خلاف بولنے کی جرات نہیں کر سکتے مگر دنیا کے طاقتور ترین ملک کی طاقتور فوج کے خلاف ہم جہاد پر جانے کی باتیں کرتے ہیں۔

ہمارا کوئی ایک عمل بھی ایک مجاہد والا نہیں ہے مگر فلسطین کو ازاد کرانے اور اپنے حکمرانوں کو بزدل کہنے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔ دنیا کے پچاس سے زائد اسلامی ممالک ہیں مگر ہم پاکستانیوں پر ہی کیوں فلسطین کاجہاد فرض ہے؟

ہم سوشل میڈیا کے مجاہد ہالی ووڈ کی فلم دیکھتے ہوئے میکڈونلڈ کا پیزا اور کوک پینے کی تصویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کے بعد اگلی پوسٹ فلسطین میں جہاد کرنے کی ترغیب دینے کی لگاتے ہیں۔ میرے سوشل میڈیا کے مجاہدین سے گزارش ہے کہ پہلے اپنی ذات ، اپنے خاندان اور اپنے ملک میں ہر طرح کی ازادی حاصل کر لیں اس کے بعد کسی دوسرے ملک کو ازاد کرانے کے جہاد پر ضرور جائیں وہ قبول بھی ہو گا۔

رات دن جہاد جہاد کرنے والوں سے عرض ہے کہ پہلے جہاد کی فرضیت اور اپنی ریاست سے جہاد کی اجازت کا شرعی و آئینی حیثیت بارے پڑھیں پھر دیکھیں کہ واقعی ہم پر فلسطین کا جہاد فرض ہے یا پہلے اپنے ظالم حکمران کے خلاف آواز حق بلند کرنا فرض ہے؟۔ ہم سوشل میڈیا پر اپنی فوج اور اپنے حکمرانوں کو فلسطین کو ازاد کرانے کے لیے حملہ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے انہیں بزدل فوج اور حکمران کہنے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور جھانکیں کہ آپ کتنے بہادر ہیں۔

ستر سالوں سے ہماری کشمیری بہنوں کی عزتیں لوٹی جا رہی ہیں مگر کسی سوشل میڈیائی مجاہد نے اپنی بغل میں جہاد کرنے کا واویلا نہیں کیا، کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے مگر چند کلومیٹر دور انڈین فوج کے خلاف جہاد کرنے کی باتیں نہیں کیں مگر ہزاروں میل دور فلسطین میں جا کر جہاد کرنے کے بھاشن دیتے نہیں تھکتے۔

پہلے اپنے ملک میں سود جیسی لعنت کے خلاف متحد ہو کر تو دکھاؤ جو سیدھی سیدھی اللہ کے ساتھ جنگ ہے اس کے بعد فلسطین کو ازاد کرانے ضرور جانا۔

میں فلسطینی مسلمان بہن بھائیوں اور بچوں کی مدد کرنے کے خلاف نہیں ہوں ان کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جانی چاہیے ان سے اظہار یکجہتی کرنا ہمارا دینی فریضہ پے ان کی ہر ممکن مدد کرنا بھی فرض ہے مگر ان کے لیے جہاد فرض نہیں جب تک کہ آپ اپنے ملک میں ہر طرح کی ازادی حاصل نہیں کرتے ، آپ خود کو اخلاقی طور پر معاشرتی جہاد کے قابل نہیں کرتے ، آپ جب تک ظالم کے سامنے کلمۂ حق کہنے کی جرات نہیں کر سکتے۔

کسی اپنے بہن بھائی ساتھ زیادتی ہوتے دیکھ کر اس کا ہاتھ روکنے کی اخلاقی جرات نہیں رکھتے، اپنے اور اپنے بچوں سے ہونے والی نا انصافی کے خلاف اٹھ کھڑے نہیں ہوتے تب تک کسی دوسری قوم کسی دوسرے ملک کے لیے جہاد بالکل فرض نہیں ہے اور اگر پھر بھی کوئی یہ کہتا ہے کہ فلسطین کا جہاد فرض ہے تو وہ شہادت نہیں خودکشی ہے۔

میرے سوشل میڈیا کے مجاہدو آپ صرف سوشل میڈیا پر اپنا جہاد جاری رکھیں دوسروں کو اس کی تلقین نہ کریں۔ ہماری حکومت اور فوج آپ سے بہتر جانتی ہے کہ اسے فلسطین کے جہاد پر جانا چاہیے یا نہیں !۔ اللہ کریم فلسطینی بہن بھائیوں کی مشکلات میں آسانیاں پیدا فرمائے اور مجاہدین کی غیب سے مدد فرمائے اور اسرائیلی دہشتگردوں کی سرکوبی کے لیے مسلم ممالک کو غیرت عطاء فرمائے۔ آمین

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
35°C
Jhelum
broken clouds
35° _ 35°
56%
3 km/h
منگل
39 °C
بدھ
39 °C
جمعرات
39 °C
جمعہ
41 °C
ہفتہ
38 °C

تازہ ترین

پنڈدادنخان میں 25 سالہ نوجوان دریائے جہلم عبور کرتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق
10 اگست, 2026
دینہ میں مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے حق میں مسلم لیگ (ن) کی عظیم الشان ریلی
10 اگست, 2026
جہلم میں افغان باشندوں کےغیر قانونی شناختی کارڈ بنوانے کا انکشاف، 228 کارڈز منسوخ، متعدد افغان باشندے گرفتار
10 اگست, 2026
جہلم میں مکہ باہمی دفاعی معاہدے کی مناسبت سے خصوصی تقریب، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ سے اظہار یکجہتی
10 اگست, 2026
سوہاوہ: ڈومیلی میں 38 سالہ شخص ٹریکٹر کے نیچے آ کر جاں بحق
10 اگست, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

پاکستانی اور بھارتی تارکین وطن: وہ آگے اور ہم پیچھے کیوں؟

13 فروری, 2024

مہنگی پیٹرولیم مصنوعات کا متبادل حل

10 مئی, 2026

سیاہ سی کھچڑی

4 نومبر, 2024

ٹنڈل رام پرشاد اور لمحہ موجود

2 مارچ, 2025

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں