ہاں ہمیں فلسطین کے حق میں اسرائیل کے خلاف جہاد پر نکلنا چاہیے۔ یہ جہاد ہم مسلمانوں خاص طور پر پاکستانی مسلمانوں ہر فرض ہو چکا ہے اور بیشتر پاکستانی سوشل میڈیا پر جہاد کرتے بھی نظر آتے ہیں اور اکثریت دوسروں کو جہاد کی تلقین بھی کرتےہیں۔
واقعی ہم پاکستانیوں کو تو لازمی جہاد پر جانا چاہیے کیونکہ ہم یہاں پر تو اپنے اور اپنے بچوں کے لیے جہاد کی کوئی بھی قسم اپنے اوپر لازم نہیں سمجھتے ، ستر سالوں سے ہمارا استحصال ہو رہا ہے مگر ہم کلمہ حق کہنے کا جہاد نہیں کر رہے ، ہمیں ہر طرح سے سماجی و معاشی ظلم و بربریت کا سامنا ہے مگر اس کے خلاف جہاد کی بجائے فلسطین ضرور جانا چاہیے۔
ملک کی اشرافیہ ہمارے بچوں کا مستقبل چھین رہا ہے مگر ان کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے فلسطینیوں کے لیے بندوق ضرور اٹھانی چاہیے، ہمیں غلام در غلام بنایا جاتا ہے مگر اپنی ازادی کہ بجائے فلسطین کی ازادی کی جنگ ضرور لڑنی چاہیے۔
ہاں بالکل فلسطین کا جہاد ہم پر فرض ہے۔ ایک شہر کا چھوٹا سا سرمایہ دار ،جاگیردار اور سیاستدان ہمیں جب چاہیے اٹھ کر تھپڑ مار دے ہم اس کے سامنے آواز اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتے مگر امریکہ و اسرائیل کے خلاف ہمیں جہاد کی اجازت چاہیے۔ ہم سے ہمارا ووٹ لے کر اپنی مرضی کے حکمران مسلط کر دیے جاتے ہیں اور ہم اپنی ووٹ کی عزت بچانے کی سکت نہیں رکھتے مگر ہمیں فلسطینی بہنوں کی عزت کی رکھوالی کرنے ضرور نکلنا چاہیے۔
ہم اپنے گھر میں سچ بولنے اور غلط کو غلط کہنے کا اخلاقی جہاد کرنے سے قاصر ہیں مگر سات سمندر پار دوسری قوموں سے لڑنے کی تمنا ہے . ہمیں کوئی پولیس والا جھوٹے مقدمے میں پکڑ کر تھانے بند کر دے تو ہم اس نا انصافی کے خلاف بولنے کی جرات نہیں کر سکتے مگر دنیا کے طاقتور ترین ملک کی طاقتور فوج کے خلاف ہم جہاد پر جانے کی باتیں کرتے ہیں۔
ہمارا کوئی ایک عمل بھی ایک مجاہد والا نہیں ہے مگر فلسطین کو ازاد کرانے اور اپنے حکمرانوں کو بزدل کہنے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔ دنیا کے پچاس سے زائد اسلامی ممالک ہیں مگر ہم پاکستانیوں پر ہی کیوں فلسطین کاجہاد فرض ہے؟
ہم سوشل میڈیا کے مجاہد ہالی ووڈ کی فلم دیکھتے ہوئے میکڈونلڈ کا پیزا اور کوک پینے کی تصویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کے بعد اگلی پوسٹ فلسطین میں جہاد کرنے کی ترغیب دینے کی لگاتے ہیں۔ میرے سوشل میڈیا کے مجاہدین سے گزارش ہے کہ پہلے اپنی ذات ، اپنے خاندان اور اپنے ملک میں ہر طرح کی ازادی حاصل کر لیں اس کے بعد کسی دوسرے ملک کو ازاد کرانے کے جہاد پر ضرور جائیں وہ قبول بھی ہو گا۔
رات دن جہاد جہاد کرنے والوں سے عرض ہے کہ پہلے جہاد کی فرضیت اور اپنی ریاست سے جہاد کی اجازت کا شرعی و آئینی حیثیت بارے پڑھیں پھر دیکھیں کہ واقعی ہم پر فلسطین کا جہاد فرض ہے یا پہلے اپنے ظالم حکمران کے خلاف آواز حق بلند کرنا فرض ہے؟۔ ہم سوشل میڈیا پر اپنی فوج اور اپنے حکمرانوں کو فلسطین کو ازاد کرانے کے لیے حملہ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے انہیں بزدل فوج اور حکمران کہنے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور جھانکیں کہ آپ کتنے بہادر ہیں۔
ستر سالوں سے ہماری کشمیری بہنوں کی عزتیں لوٹی جا رہی ہیں مگر کسی سوشل میڈیائی مجاہد نے اپنی بغل میں جہاد کرنے کا واویلا نہیں کیا، کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے مگر چند کلومیٹر دور انڈین فوج کے خلاف جہاد کرنے کی باتیں نہیں کیں مگر ہزاروں میل دور فلسطین میں جا کر جہاد کرنے کے بھاشن دیتے نہیں تھکتے۔
پہلے اپنے ملک میں سود جیسی لعنت کے خلاف متحد ہو کر تو دکھاؤ جو سیدھی سیدھی اللہ کے ساتھ جنگ ہے اس کے بعد فلسطین کو ازاد کرانے ضرور جانا۔
میں فلسطینی مسلمان بہن بھائیوں اور بچوں کی مدد کرنے کے خلاف نہیں ہوں ان کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جانی چاہیے ان سے اظہار یکجہتی کرنا ہمارا دینی فریضہ پے ان کی ہر ممکن مدد کرنا بھی فرض ہے مگر ان کے لیے جہاد فرض نہیں جب تک کہ آپ اپنے ملک میں ہر طرح کی ازادی حاصل نہیں کرتے ، آپ خود کو اخلاقی طور پر معاشرتی جہاد کے قابل نہیں کرتے ، آپ جب تک ظالم کے سامنے کلمۂ حق کہنے کی جرات نہیں کر سکتے۔
کسی اپنے بہن بھائی ساتھ زیادتی ہوتے دیکھ کر اس کا ہاتھ روکنے کی اخلاقی جرات نہیں رکھتے، اپنے اور اپنے بچوں سے ہونے والی نا انصافی کے خلاف اٹھ کھڑے نہیں ہوتے تب تک کسی دوسری قوم کسی دوسرے ملک کے لیے جہاد بالکل فرض نہیں ہے اور اگر پھر بھی کوئی یہ کہتا ہے کہ فلسطین کا جہاد فرض ہے تو وہ شہادت نہیں خودکشی ہے۔
میرے سوشل میڈیا کے مجاہدو آپ صرف سوشل میڈیا پر اپنا جہاد جاری رکھیں دوسروں کو اس کی تلقین نہ کریں۔ ہماری حکومت اور فوج آپ سے بہتر جانتی ہے کہ اسے فلسطین کے جہاد پر جانا چاہیے یا نہیں !۔ اللہ کریم فلسطینی بہن بھائیوں کی مشکلات میں آسانیاں پیدا فرمائے اور مجاہدین کی غیب سے مدد فرمائے اور اسرائیلی دہشتگردوں کی سرکوبی کے لیے مسلم ممالک کو غیرت عطاء فرمائے۔ آمین


