پاکستانی اور بھارتی تارکین وطن: وہ آگے اور ہم پیچھے کیوں؟

آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی اولین شرط ہے کہ حقائق سے روگردانی نہ کی جائے، اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر بات کی جائے، جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ اس وقت ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے نکمے ترین نوجوانوں میں پاکستان پہلے دس ممالک میں آگیا ہے۔ جن کے پاس نہ تو مناسب نوکریاں ہیں، اور نہ ہی مناسب تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

دوسری جانب خبر یہ ہے کہ بھارتی نژاد امریکی، برطانوی اور یورپی نوجوان اس وقت دنیا کی سیاست میں نا صرف اپنا نام پیدا کر رہے ہیں بلکہ بھارتی نژاد امریکی ارب پتی راما سوامی نے سپرپاور امریکا میں صدارتی دوڑ میں شامل ہو کر دنیا خصوصاََ پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ آگے چلنے سے پہلے راما سوامی کے بارے میں بتاتا چلوں کہ وہ امریکی ریاست اوہائیو میں ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئے، ان کے خاندان کا تعلق بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ سے ہے اور ان کے والدین ضلع پلکاڈ سے ہجرت کر کے امریکہ پہنچے تھے۔

راما سوامی نے ہارورڈ اور اییل جیسی معروف یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں کاروبار شروع کیا اور کافی دولت کمائی۔ امریکہ میں آئندہ صدارتی انتخاب 2024ء کے لیے ریپبلیکن پارٹی کے جو صدارتی امیدوار اب تک میدان میں آئے ہیں، ان میں سے دو بھارتی نژاد امریکی شہری ہیں۔ اس میں ایک معروف چہرہ نِکی ہیلی کا ہے، جو فی الوقت گورنر کے عہدے پر فائز ہیں۔ تاہم وِویک راما سوامی کو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

لیکن راما اُس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے جب انہوں نے سیاسی مباحثے میں مخالف اُمیدواروں کو چاروں شانے چت کیا۔ دیگر امیدواروں کے برعکس پہلے مباحثے سے قبل تک راما سوامی کو کوئی جانتا تک نہیں تھا، تاہم بحث کے ایک روز بعد ایکسس نام ادارے نے رائے شماری کے جائزوں کی بنیاد پر بتایا کہ پہلی پوزیشن حاصل کر کے وہ نمبر ون رہے۔

اسی طرح دنیا بھر میں بھارتی نژاد افراد سیاست میں اپنے جھنڈے گاڑ رہے ہیں جیسے گزشتہ سال گوروں کے دیس نے پہلا رنگدار وزیراعظم چنا۔ رشی سوناک برطانیہ کے پہلے بھارتی نژاد وزیراعظم منتخب ہو ئے اور وہ بھی بلا مقابلہ۔پھر کینیڈ ا میں کم و بیش 10اراکین بھارتی ہیں اور یورپ کے دیگر ممالک کی حکومتوں میں بھی بھارتی شامل ہیں جو اپنے ملک کے ’’کاز‘‘ کے لیے ہمیشہ ان ممالک میں حاضر رہتے ہیں اور جہاں کہیں بھارت کے حوالے سے کوئی وقوعہ ہوتا ہے اور حقائق دنیا کے سامنے آتے ہیں تو یہ لوگ اپنے ملک کے علاوہ بھارت کے لیے بھی کھڑے ہوتے ہیں۔

پھر یہی نہیں، دنیا کی درجن بھر انٹرنیشنل کمپنیوں کے سی ای اوز بھی بھارتی ہیں، جن میں اہم ترین اور دنیا کی سب سے طاقتور شخصیات میں سے ایک ’سندر پچائی‘ ہیں، جو ’’گوگل‘‘ کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والی شخصیت کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں جن کی ماہانہ تنخواہ 242ملین ڈالر یعنی پاکستانی 19ارب روپے سے بھی زائد ہے۔ یہ بات جان کر یقینا آپ بھی حیران ہوں کہ آخر کسی شخص کی تنخواہ اتنی زیادہ کیسے ہو سکتی ہے اور یہ شخص اتنی زیادہ دولت کا آخر کرتا کیا ہو گا؟

اس سے بھی زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ انڈیا کے ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان آخر کس طرح آج اس مقام پر پہنچا کہ اس کے ماتحت ڈیڑھ لاکھ سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹوئیٹر میں بھی بڑے عہدے پر ایک بھارتی نژاد امریکی پیراگ اگروال ہیں۔ پھر مائیکروسافٹ میں ستیا ناڈیلہ موجود ہیں، لینا نائردنیا کی بڑی چینل کمپنی کی سی ای او ہیں، شانتانو ایڈبی کمپنی کے سی ای او ہیں، پھر ایک بڑی کمپیوٹر کمپنی کے سی ای او اروند کشنا ہیں۔ پھر مائیکرون ٹیکنالوجی کے سی ای او سنجے ملہوترا ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

خیر اس کی وجہ کچھ بھی ہو لیکن یا تو انڈینز سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دنیا بھر کی کمپنیوں میں اپنا نام بنا رہے ہیں یا وہ ٹیلنٹ کی بنیاد پر آگے آرہے ہیں یا اُن کی تربیت اس انداز میں کی جا رہی ہے کہ وہ دنیا کے بہترین عہدوں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر اپنے نوجوانوں کو نوکریاں دے رہے ہیں، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنی میں 60فیصد سے زائد ملازمین کا تعلق بھی انڈیا ہی سے ہے۔

پھر ایسا نہیں ہے کہ پاکستانی نوجوان بھی دنیا میں کام نہیں کر رہے یا اپنا نام نہیں بنا رہے ، لیکن اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نا تو اپنے ملک میں ایک قوم بن سکے ہیں بلکہ ہم بیرون ملک بھی گروہ بندیوں کا شکار رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے نوجوانوں کی تربیت نا ہونے کے برابر ہوتی ہے، تبھی حال ہی میں برطانیہ میں مقیم نکمے ترین نوجوانوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جس کے مطابق پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان نہ تو تعلیم اور نہ ہی نوکری کرنے والوں میں سرفہرست ہیں۔

سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانیہ میں اوسطاً ساڑھے گیارہ فیصد نوجوان نہ تو کسی تعلیم و تربیتی پروگرام کا حصہ ہیں اور نہ ہی کسی روزگار سے منسلک ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان نوجوانوں میں سب سے زیادہ شرح پاکستانی نژاد نوجوانوں کی ہے، جو 14 اعشاریہ 3 فیصد ہے، جس کے بعد بارہ فیصد بنگلہ دیشی نژاد نوجوان ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارتی نژاد تارکینِ وطن، پاکستانی نژاد تارکین ِوطن سے آگے کیوں نکل گئے؟

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارتی تارکینِ وطن آگے کی طرف دیکھتے ہیں اور پاکستانی تارکینِ وطن پیچھے کی طرف، یہ آپس میں اُلجھے رہتے ہیں۔میں کئی برس سے امریکا، یورپ و آسٹریلیا جا رہا ہوں اور کئی کئی ماہ قیام کرتا ہوں۔ پاکستانی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد میرے حلقہ احباب میں شامل ہے۔ ان میں سے صرف دو صاحبان ایسے ہیں جو مقامی سیاست اور مقامی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔

بڑے شہروں کے علاوہ کئی دیگر چھوٹے شہروں میں جانے کا بھی اتفاق ہوا۔لیکن میں نے دیکھا کہ گنتی کے چند پاکستانی مقامی سیاست میں دلچسپی لیتے ہیں آپ کینیڈا کو دیکھ لیں، وہاں مقیم سکھ برادری مقامی سیاست پر چھائی ہوئی ہے۔ چند سال پہلے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے واشنگٹن میں کہا تھا کہ ان کی کابینہ میں سکھوں کی تعداد مودی کی کابینہ میں سکھوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ ظاہر ہے کہ مقامی سیاست میں بھرپور دلچسپی لیے بغیر ایسا ممکن نہیں۔

اسکے برعکس پاکستانی نژاد تارکین وطن مْڑ مڑ کر پا کستانی سیاست کی طرف دیکھتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کیساتھ پاکستانی سیاست کی بنیاد پر ہی بر سر پیکار ہیں۔ بیرون ملک اکثر شہروں میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی باقاعدہ شاخیں قائم ہیں! افتخار عارف نے کہا ہے : تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں بہرکیف اس حوالے سے ہماری حکومتوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ اُن عوامل پر غور کریں جو پاکستانیوں کو آگے لے کر آنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اس حوالے سے پاکستانی سفارتخانے اپنے اپنے ملک میں سیمیناروں کا انعقاد کریں، اُن کے لیے آگے بڑھنے کے کورسز منعقد کروائیں جبکہ پاکستان کو بھی چاہیے کہ اگر دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا ہے تو ایجوکیشن پر زیادہ فوکس کرنا ہوگا، اس کے لیے ایجوکیشن بجٹ کو بڑھانا ہوگا، آپ خود دیکھ لیں کہ ہم تعلیم پر کتنا خرچ کر رہے ہیں، یعنی جنوبی کوریا ہر سال اپنی آبادی کے ہر فرد کی بنیادی تعلیم پر تقریباً 130 ڈالر خرچ کرتا ہے جب کہ ملائیشیا تعلیم پر سالانہ 128 ڈالر فی کس خرچ کررہا ہے۔

اگر اس کا موازنہ جنوبی ایشیا کے ممالک سے کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان اپنی آبادی کے ہر فرد کی بنیادی تعلیم پر سالانہ 9 ڈالر،اور پاکستان صرف 3 ڈالر جبکہ بنگلہ دیش 2 ڈالر فی کس کے حساب سے خرچ کررہے ہیں۔ حتیٰ کہ سب صحارا کے پس ماندہ افریقی ممالک بھی بعض شعبوں میں جنوبی ایشیا سے آگے نکل گئے ہیں۔ ان افریقی ممالک میں خواندہ افراد کی تعداد 55 فی صد ہے جب کہ جنوبی ایشیا میں مجموعی شرح خواندگی 47 فی صد ہے۔

جنوبی ایشیا کے 80 کروڑ باشندے صحت و صفائی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور پھر ہماری ترجیحات ہی کچھ اور ہیں جیسے کچھ عرصہ قبل بل گیٹس نے جب پاکستان کا دورہ کیا تو اس وقت کے وزیراعظم نے انہیں پولیو اور کورونا کے سینٹرز کا دورہ کروایا مگر ٹیکنالوجی میں ان سے مدد لینے کی کوئی بات نہیں کی، حالانکہ ان کا اصل شعبہ صحت نہیں بلکہ ٹیکنالوجی ہے۔ بل گیٹس سے اس شعبے میں مدد لینی چاہیے تھی کہ ہمارے ہاں نوجوانوں کو آن لائن کام کرنے میں بہت سی مشکلات پیش آرہی ہیں وغیرہ۔ لیکن ہم ایسا نہ کر سکے تبھی ہم بطور قوم بھی پیچھے ہیں اور انفرادی طور پربھی۔ لیکن دنیا اور بھارت ہم سے بہت آگے ہے، اور یہی زمینی حقائق ہیں۔

 
تحریر: علی احمد ڈھلوں
 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button