پنڈ دادنخان کے علاقے کندوال میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا ایک افسوسناک منظر اس وقت سامنے آیا جب ایک بزرگ کی تدفین کے لیے قبرستان جانے والا راستہ کیچڑ اور گندے پانی سے بھر جانے کے باعث میت کو کچھ فاصلے تک رکشے میں منتقل کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے علاقے کندوال کے محلہ لکھیال میں ایک معزز بزرگ کی نمازِ جنازہ کے بعد جب شرکائے جنازہ میت کو قبرستان لے جا رہے تھے تو قبرستان جانے والی مرکزی گلی میں گندے پانی اور گہرے کیچڑ کے باعث میت کو کندھوں پر لے جانا ممکن نہ رہا۔
عینی شاہدین کے مطابق مجبوری کے تحت میت کو رکشے میں رکھ کر متاثرہ راستہ عبور کروایا گیا، جبکہ خشک جگہ آنے کے بعد دوبارہ میت کو کندھوں پر اٹھا کر قبرستان پہنچایا گیا۔ اس صورتحال پر اہلِ خانہ اور جنازے میں شریک افراد نے گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ قبرستان اور جنازہ گاہ کی جانب جانے والی یہ مرکزی گلی گزشتہ کئی عرصے سے ٹوٹ پھوٹ، گندے پانی اور ناقص نکاسیٔ آب کا شکار ہے۔ ان کے مطابق متعدد بار متعلقہ اداروں اور منتخب نمائندوں کو اس مسئلے سے آگاہ کیا گیا، تاہم تاحال اس کے مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، ڈپٹی کمشنر جہلم، اسسٹنٹ کمشنر پنڈ دادنخان، متعلقہ بلدیاتی اداروں اور دیگر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قبرستان جانے والے راستے کی فوری مرمت، نکاسیٔ آب کے مؤثر انتظامات اور گلی کو مستقل بنیادوں پر پختہ کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی خاندان کو اپنے پیاروں کی تدفین کے موقع پر ایسی تکلیف دہ صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اہلِ علاقہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے علاقے کے بنیادی مسائل کو پرامن اور ذمہ دارانہ انداز میں اجاگر کریں تاکہ متعلقہ ادارے ان دیرینہ مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کر سکیں۔


