پڑی درویزہ: حصولِ علم کا جذبہ عمر کی محتاج نہیں ہوتا، اس کی ایک قابلِ تحسین مثال تحصیل گوجرخان کے علاقے ٹھاکرہ موہڑہ کے رہائشی 83 سالہ بزرگ طالب علم اسرار احمد بھٹی نے قائم کردی۔
اسرار احمد بھٹی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے امتحانی مرکز گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول گوجرخان میں ’’اللسان العربی‘‘ کا امتحانی پرچہ دینے پہنچ گئے۔ بزرگ طالب علم کی امتحانی مرکز آمد پر انتظامیہ اور امتحانی عملے نے خوشی کا اظہار کیا، جبکہ سینئر سپرنٹنڈنٹ امتحانی مرکز ڈاکٹر جہانگیر افضل نے ان کا خصوصی استقبال کیا۔
اسرار احمد بھٹی اپنی عمر کے 83ویں سال میں بھی تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے تحت ’’اللسان العربی‘‘ کے امتحان میں شرکت کے لیے گوجرخان کے امتحانی مرکز پہنچے تو وہاں موجود عملہ ان کے شوقِ تعلیم اور علمی لگن سے متاثر ہوا۔ امتحانی مرکز کے سینئر سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جہانگیر افضل نے بزرگ طالب علم کا خیرمقدم کیا، جبکہ دیگر عملے نے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی۔
اسرار احمد بھٹی ماضی میں پاکستان کی مسلح افواج کی ایجوکیشن کور میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور کیپٹن کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ان کے تعلیمی سفر کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ وہ چھ مضامین میں ماسٹر ڈگریاں حاصل کرنے کے علاوہ ایل ایل بی کی ڈگری بھی رکھتے ہیں۔ وہ مختلف سرکاری تعلیمی اداروں میں بطور استاد بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
’’اللسان العربی‘‘ کا امتحانی پرچہ مکمل ہونے کے بعد امتحانی مرکز کے عہدیداران بزرگ طالب علم کو رخصت کرنے کے لیے خصوصی طور پر دروازے تک ساتھ آئے۔ ان کی امتحان میں شرکت نے وہاں موجود دیگر طلبہ و طالبات کی بھی حوصلہ افزائی کی اور یہ پیغام دیا کہ علم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی حد نہیں، بشرطیکہ انسان میں سیکھنے کا شوق اور آگے بڑھنے کا عزم موجود ہو۔
بزرگ طالب علم اسرار احمد بھٹی کا یہ جذبہ ان افراد کے لیے ایک مثال ہے جو عمر یا دیگر مصروفیات کو تعلیم کے حصول میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ ان کی علمی لگن اور مسلسل کوشش اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ سیکھنے کا سفر زندگی کے کسی بھی مرحلے پر جاری رکھا جا سکتا ہے۔
امتحانی عملے اور دیگر طلبہ و طالبات نے اسرار احمد بھٹی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت مند، خوشحال اور پُرسکون زندگی عطا فرمائے اور ان کے جذبہ علم کو مزید تقویت دے۔ آمین۔


