پنجاب کی سیاست میں کبھی کبھی ایک منصوبہ ایسا آتا ہے جو صرف آغاز نہیں ہوتا، ایک پیغام ہوتا ہے۔ مریم نواز کی جانب سے جہلم سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں الیکٹرو بس سروس کا افتتاح بھی ایسا ہی پیغام ہے۔
صاف، جدید، ماحول دوست، اور عوامی کہیں دھواں نہیں، کہیں شور نہیں؛ بس ایک احساس کہ تبدیلی اب فائلوں میں نہیں، سڑکوں پر اتر آئی ہے۔جہلم کے لوگ، جو برسوں سے ترقی کے انتظار میں تھے، آج خوش ہیں۔
ایک مسافر ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا: “پہلاں سفر عذاب سی، ہُن لگدا اے جہلم وی لاہور بن ریا اے!”۔ یہ صرف ایک بس سروس نہیں، پنجاب کی عوامی سوچ کی جیت ہے۔جہاں پہلے سیاست کے نام پر وعدے بیچے جاتے تھے، وہاں اب کام دکھایا جا رہا ہے۔
جہلم کے اسٹینڈ پر جب پہلی الیکٹرو بس پہنچی تو مخالفین کے بیانات کی رفتار وہیں رک گئی۔ لوک آکھدے نیں، “بس آ گئی تے اوہناں دی بس ہو گئی!”۔ پنجاب کی سیاست کا مزاج کچھ ایسا ہے کہ عوام کو نعرے نہیں، نتیجے چاہیے اور مریم نواز نے اسی نکتے کو سمجھ لیا ہے۔
لاہور سے لے کر ملتان، راولپنڈی سے جہلم تک ترقیاتی منصوبوں کا ایک تسلسل چل رہا ہے۔ صاف پانی، صحت کی سہولتیں، تعلیم کے مواقع، اور اب جدید ٹرانسپورٹ یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت صرف دعوے نہیں کر رہی، ڈلیور کر رہی ہے۔ جہلم کے لوگوں کے لیے یہ بسیں کسی عید کے تحفے سے کم نہیں۔
ایک بزرگ کہتا ملا کہ “پتر، کرایہ وی گھٹ، ٹائم وی بچ گیا، تے دھواں وی مک گیا۔ ایہو جہی تبدیلی ہوندی اے!”۔ ادھر سیاسی مخالفین کے بیانات کا حال کچھ یوں ہے جیسے پرانے ماڈل کی وین جو چلتی کم اور شور زیادہ کرتی ہے؛ کوئی کہہ رہا ہے منصوبہ وقتی ہے، کوئی اسے دکھاوا گردان رہا، لیکن عوام کہہ رہی ہےکہ “او بھائی، کم کر کے دکھاؤ، زبان نہ چلاؤ!”
پنجاب میں یہ بسیں صرف عوام کو سہولت نہیں دے رہیں، بلکہ سیاست کو نئی راہ دکھا رہی ہیں۔وہ راہ جہاں ترقی کا معیار جلسوں کے ہجوم سے نہیں بلکہ عوام کی آسانی سے ناپا جائے گا۔مریم نواز کا یہ قدم صاف بتا رہا ہے کہ ترقی اب مرکز یا کسی خاص شہر تک محدود نہیں رہے گی۔اب چھوٹے اضلاع بھی وہی سہولتیں پائیں گے جو بڑے شہروں کا خاصہ سمجھی جاتی تھیں۔
یہی اصل “نیا پنجاب” ہے، جہاں ترقی کسی پارٹی کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کا حق بن چکی ہے۔ مخالفین کو شاید یہ بات ہضم نہیں ہو رہی، اس لیے کبھی کبھی ان کی زبان سے بھی پنجابی نکل جاتی ہے: “ایہہ کی ہو گیا؟ ساڈی واری تے کچھ وی نئیں چلیا!”۔ آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ یہ “بس” صرف ایک منصوبہ نہیں۔
یہ سیاسی پیغام ہے کہ جو عوام کے لیے کچھ کرے گا اسکی "بس ” چلے گی اور جو کچھ نہیں کرے گا اس کی "بس” ہو جائے گی اور اب تو بس آ گئی، اور واقعی بس ہو گئی!


