دبئی میں مقیم پاکستانی بزنس مین چودھری محمد اشرف گل کو متحدہ عرب امارات کا گولڈن ویزا مل گیا

دبئی: متحدہ عرب امارات میں 1985 سے مقیم پاکستانی بزنس مین چودھری محمد اشرف گل کو متحدہ عرب امارات کا گولڈن ویزا مل گیا، انہیں یہ ویزا حکومت امارات نے کارکردگی اورانویسٹر کی بنیاد پردیا ہے۔

گولڈن ویزا ملنے پرچودھری محمد اشرف گل نے حکومت امارات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای کی حکومت نے ہمیں یہاں تحفظ کے احساس کے ساتھ کاروبار کرنے کا موقع فراہم کیا ہے اور یہاں کی گورنمنٹ ہمارے ساتھ بہت تعاون کرتی ہے جس کی وجہ سے ہم آزاد ماحول میں کام کر رہے ہیں۔

چودھری محمد اشرف گل ٹرانسپورٹ، رئیل اسٹیٹ، ریسٹورنٹس، آٹو ورکشاپ، ٹریول اینڈ ٹورازم، کیٹرنگ اور سینٹرل کچن وغیرہ کے بزنس سے وابستہ ہیں، ان کی کمپنی سراب المدینہ میں چار سو سے زائد ملازم ہیں جن کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے ہے، لیکن زیادہ تر ملازم پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے میری محبت کا ثبوت یہ ہے کہ میں نے اپنی کمپنیوں میں اسی فیصد سے زائد پاکستانیوں کوملازمتیں فراہم کر رکھی ہیں تا کہ وہ زیادہ سے زیادہ زر مبادلہ پاکستان بھجوائیں اور پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کریں۔ چودھری محمد اشرف گل نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تربیت یافتہ افرادی قوت بیرون ملک بھجوائے تا کہ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر بڑھیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے بیرونی ممالک میں آج بھی پاکستانی افرادی قوت کی مانگ ہے جسے پورا کر کے ملکی معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ اوورسیز بزنس مینوں کو چاہیے کہ وہ پاکستانی بے روزگار ورکروں کو روزگار فراہم کرتے ھوئے اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیں۔

بسلسلہ روزگار بیرون ملک نئے آنے والے پاکستانیوں سے چودھری محمد اشرف گل نے کہا کہ وہ کوئی ہنر سیکھ کر باہر آئیں تا کہ اچھے پیسے کما کر اپنے اہل خانہ کی بطریق احسن کفالت کر سکیں۔

بیرون ملک بسلسلہ روزگار مقیم پاکستانیوں سے چودھری محمد اشرف گل نے کہا ہے کہ وہ ہر اس ملک کے قانون کی پاسداری کریں جہاں وہ رہتے اور کام کرتے ہیں۔ اوورسیز پاکستانی جہاں بھی ہیں وہ اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں لہٰذا انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ملک کی عزت اور وقار کو بلند کریں اور کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے ملک کی بے عزتی ہو۔

چودھری محمد اشرف گل نے خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنے پیارے ملک پاکستان کو "ٹاپ آف دی لسٹ” دیکھنا چاہتے ہیں جس کے لئے تگ و دو میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button