جہلم میں ایک خاتون کی مبینہ خرید و فروخت اور جنسی استحصال کے سنگین مقدمے میں تھانہ صدر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا جبکہ متاثرہ خاتون کو بازیاب کرا کے تحفظ کے لیے دارالامان منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون (م) نے مقدمہ درج کراتے ہوئے بیان دیا کہ وہ ضلع گوجرانوالہ کی رہائشی ہے۔ اس کے مطابق تقریباً دو ماہ قبل ایک شخص نے اسے گھریلو ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر اپنے ساتھ رکھا اور بعد ازاں مبینہ طور پر اسے 30 ہزار روپے کے عوض ایک خاتون کے ہاتھ فروخت کر دیا۔
مدعیہ نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ خاتون نے اسے اپنے گھر میں رکھا، اس کی مرضی کے خلاف مختلف افراد کے ساتھ جنسی استحصال کروایا اور اس کے عوض رقم وصول کرتی رہی۔ خاتون کے مطابق اسے ایک کمرے میں بند رکھا جاتا تھا اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
اطلاع ملنے پر ایس ایچ او تھانہ صدر مرزا صداقت نے مقدمے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔ ان کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا جبکہ متاثرہ خاتون کو بحفاظت بازیاب کرا کے قانونی و حفاظتی اقدامات کے تحت دارالامان منتقل کر دیا گیا، جہاں اسے تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور واقعے میں ملوث دیگر ممکنہ افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مزید شواہد سامنے آنے کی صورت میں قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


