جہلم: ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھی جہلم شہر سمیت ضلع بھر کے بیشتر علاقوں میں سرکاری نرخ ناموں کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے جبکہ 27 ویں روزے کے موقع پر بھی شہریوں کو سبزیوں اور پھلوں کی مہنگی خریداری پر مجبور ہونا پڑا۔
پرچون سطح پر دکانداروں نے سرکاری نرخوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے من مانے ریٹ وصول کیے جس پر پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
شہریوں کے مطابق بازاروں میں قصابوں نے من مانے نرخ وصول کرنا شروع کر رکھے ہیں۔ گائے کا گوشت سرکاری قیمت 900 روپے فی کلو کے بجائے 1200 روپے جبکہ بکرے کا گوشت 1700 روپے فی کلو کے بجائے 2700 سے 2800 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح مرغی کا گوشت فروخت کرنے والے دکاندار ایک ہزار گرام کے بجائے 800 گرام کو کلو کے طور پر فروخت کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سبزی فروشوں اور پھل فروشوں نے بھی سرکاری ریٹ لسٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے قیمتوں میں خودساختہ اضافہ کر دیا ہے۔ آلو سرکاری قیمت 22 روپے فی کلو کے بجائے 35 روپے، ادرک تھائی لینڈ 280 روپے کے بجائے 330 سے 340 روپے، بینگن 80 روپے کے بجائے 90 سے 100 روپے، بند گوبھی 50 روپے کے بجائے 70 سے 80 روپے جبکہ بھنڈی 220 روپے فی کلو کے بجائے تقریباً 300 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے فوری نوٹس لیا جائے اور گراں فروشی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔


