Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: غزہ اور ہم
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

غزہ اور ہم

صبغت اللہ الیاس
صبغت اللہ الیاس
10 جون, 2025
شیئر کریں
شیئر کریں

سسکتی سانسیں، لہو میں ڈوبے جسم، ہر طرف چیخ و پکار، بھوک و پیاس سے نڈھال چوبیس لاکھ افراد جن میں ہر عمر کا فرد شامل ہے۔ یہ لوگ 610 دنوں سے زائد اذیت اور قیامت نما زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آج غزہ ہمیں جیسا تباہ و برباد نظر آتا ہے، ویسا بالکل بھی نہیں تھا۔

07 اکتوبر 2023 سے پہلے وہاں زندگی معمول سے گزرتی تھی۔ بے شک پہلے بھی وہ کئی بار جنگ کی زد میں آ چکا ہے، لیکن پہلے کبھی اتنی خوفناک تباہی کا منظر پیش نہیں ہوا تھا۔ ہماری طرح وہ بھی اپنے اپنے گھروں میں رہتے اور حلال رزق کمانے کی خاطر کوشاں رہتے۔ چہل پہل، مسکراتے چہرے… لیکن ایک صبح پھر ایسی ہوئی کہ جس کا سورج تو طلوع ہوا، لیکن ابھی تک نہ تھمنے والا اذیت بھرا دن اختتام پذیر نہیں ہوا۔

20,000 سے زائد بچے، جنہوں نے ابھی تک دنیا کو صحیح طرح نہیں دیکھا تھا، وہ تڑپ تڑپ کر اس جہان سے رخصت ہو گئے۔ ان تڑپتے اور خون میں لت پت بچوں کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ غزہ میں پیدا ہوئے۔ یہ مسکراتے پھول اپنے والدین سمیت اپنے اہل خانہ کے لیے جینے کی امید تھے، لیکن اپنے اہل خانہ سمیت یا ان کے سامنے درندگی کا شکار ہو گئے۔ بچے، بڑے، بزرگ — کوئی ملبے میں دب گیا، کوئی شدید زخمی ہو گیا، اور کوئی اگر بچ بھی گیا تو یا وہ جسمانی یا ذہنی طور پر نڈھال ہو چکا۔ اپنوں کو کھونے کا دکھ، نہ تھمنے والی بارود کی بارش، خوراک کی شدید قلت اور ایک دوسرے کو موت کے انتظار میں دیکھا جا رہا ہے۔

حالات اس قدر کشیدہ ہیں کہ جن کا تصور بھی رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ ہم آہستہ آہستہ کفار کی گرفت میں اتنا زیادہ آ چکے ہیں کہ اس میں سے اب نکلنا بہت مشکل ہو چکا ہے۔ ہماری بیشتر ٹیکنالوجی اور خورد و نوش کی چیزیں کفار کی بنائی گئی کمپنیوں کے ذریعے حاصل ہو رہی ہیں۔ یعنی ہماری کمائی ہوئی حلال آمدنی بھی کفار کے پاس ہی چلی جاتی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہمارے موبائل فونز بھی کفار کے لیے جاسوسی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ جب چاہیں، بنا پتا چلے، مائیک اور کیمرے کے ذریعے ہماری بات سن بھی سکتے ہیں اور ہمیں دیکھ بھی سکتے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہم ابھی کہاں بیٹھے ہیں اور موبائل پر کیا دیکھ یا سن رہے ہیں۔

مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی کفار کے ہی ہیں، جن میں اگر فلسطین کے حق میں کوئی بات بھی کی جائے تو اس پر کڑی نگرانی رکھی جاتی ہے اور اکثر پوسٹ ہی حذف کر دی جاتی ہے۔

اگر سوچا جائے تو اس عمل کے بھی قصور وار ہم خود ہی ہیں کیونکہ ہم نے کاروبار میں فروغ حاصل کرنے کی بجائے دوسروں کی بنائی ہوئی چیزوں پر خود کو انحصار کرنا بہتر سمجھا۔ آج فلسطین، غزہ اور جب چاہے شام و لبنان پر گولا بارود پھینکا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہم تمام مسلمان صرف ایک تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

مسلمان تو وہ ہوتا ہے جو صرف اللہ سے ڈرے اور ظلم کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہو جائے، لیکن ہم تو محض آپس میں لڑنے کے لیے تو اکٹھے ہو جاتے ہیں، لیکن ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو جس درندگی سے مارا جا رہا ہے، اس کے آگے ہم نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔

شرم کا تو یہ مقام ہے کہ کفار کا ایک ٹولہ مدد کے لیے سمندر کا راستہ بھی اختیار کر چکا، لیکن ہم نے مدد کرنے کی بھی کوشش نہیں کی۔

ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ 24,00,000 (چوبیس لاکھ) افراد روز زندگی اور موت کی کشمکش میں الجھے ہوئے ہیں۔ انہیں یہ نہیں معلوم کہ کب ان پر یا ان کے اپنوں پر بارود کی بارش کر دی جائے گی۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ زخمی ہونے کی صورت میں کوئی ڈاکٹر، دوا یا مرہم پٹی بھی دستیاب ہو گی یا نہیں۔ تقریباً تمام تر ہسپتال تباہ کیے جا چکے ہیں۔ بیشتر ڈاکٹروں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ ہوا بھی اب بارود، دھول اور مٹی سے بھری ہوئی ہے۔ امداد کا بھی کوئی راستہ میسر نہیں۔

آپ یوں سمجھیے جیسے تڑپنے کے لیے کسی کو قید میں رکھ دیا جائے اور ہر جانب سے اس پر ظلم ڈھایا جائے۔

اگر یوں ہی چلتا رہا تو ہم یا ہماری آنے والی نسلیں کسی نہ کسی ظلم کا شکار ہو جائیں گی۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ جتنا ہو سکے فلسطین کے حق میں آواز بلند کریں۔ اگر کوئی عہدہ ہے تو اس کا استعمال کر کے مسلمان بھائیوں کے لیے کچھ کیا جائے، ان کی مدد کی جائے تاکہ قیامت کے دن جب اللہ ہم سے پوچھے تو ہمارے پاس کوئی جواب تو ہو۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
19°C
Jhelum
clear sky
19° _ 19°
50%
1 m/s
ہفتہ
30 °C
اتوار
31 °C
پیر
33 °C
منگل
34 °C
بدھ
31 °C

تازہ ترین

جہلم میں غفلت و لاپرواہی سے ہائی ایس چلا کر موٹر سائیکل سوار فیملی کو زخمی کرنے والا ڈرائیور گرفتار
22 اکتوبر, 2026
جہلم میں ایل پی جی کی قیمتوں نے تمام ریکارڈ توڑ دیے، گھریلو سلنڈر 6200 روپے سے تجاوز کرگیا
22 اکتوبر, 2026
جہلم ایلیٹ فورس کے شہید جوانوں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا، آئی جی پنجاب کا اظہار افسوس
22 اکتوبر, 2026
جہلم چیمبر آف کامرس کے سابق صدر حاجی زاہد حسین بٹ کا حلف برداری سمیت تمام تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان
22 اکتوبر, 2026
پنڈدادنخان پولیس کی کارروائی، امانت میں خیانت کے مقدمے میں ملوث ملزم گرفتار
22 اکتوبر, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

وزیر اعلیٰ پنجاب!، شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

7 مارچ, 2025

پنڈ دادن خان کی سڑکوں کی ابتر حالت اور حکومتی غفلت

21 دسمبر, 2024

جرأت کی داستان

3 جون, 2026

تعلیمی اداروں کی نجکاری کیخلاف تحریک کے قائدین و شرکاء کے نام پرندے کی ایک بوند

14 اکتوبر, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں