جہلم: ماہ رمضان گزر جانے کے باو جو د شہری پیشہ ور بھکاریوں سے نجات حاصل نہ کر سکے ،درجنوںپیشہ ور بھکاری صبح سے شام تک شہر کے بازاروں ،گلی محلوں اور چوک ، چوراہوں میں شہریوں کو تنگ کرتے ہوئے بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔
جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے درجنوں بھکاری پچھلے چند سال سے شہر و مضافاتی علاقوں سمیت ضلع بھر میں خیمہ بستیاں قائم کئے ہوئے ہیں جن کی خواتین، بچے، بچیاں صبح سے شام تک شہر کے بازاروں، گلی محلوں اور چوک چوراہوں میں پنسلیں، تسبیاں ، ٹوپیاں فروخت کرنے کی آڑ میں بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔
بھکاریوں کو روزانہ کی بنیاد پر چنگ چی رکشے اور موٹر سائیکلیں اندرون شہر سمیت مضافاتی علاقوں میں علی الصبح چھوڑ جاتی ہیں اور شام انہیں وہاں سے لیکر خیمہ بستیوں میں منتقل کردیاجاتا ہے۔
اس کے علاوہ کچھ پیشہ ور بھکاری ہفتہ میں ایک سے دوبار شہر کا رخ کرتے ہیں بعض اوقات ان کی تعداد خریداری کرنے والوں سے بھی کہیں زیادہ ہو تی ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے ان پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف گدا گری ایکٹ کے تحت کسی قسم کی کوئی کارروائیاں نہیں کررہے جس کیوجہ سے شہری اور دکاندار بھی انتہائی پریشان ہیں۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب آئی جی پنجاب سے پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کا مطالبہ کیاہے تاکہ شہریوں کی مشکلات میں کمی واقع ہو سکے ۔


