پاکستان کے قیام کا سہرا آل انڈیا مسلم لیگ اور اسکی قیادت کو جاتا ہے۔ بلاشبہ قائداعظم محمد علی جناح ؒکی سربراہی میں ، مسلمان رہنماؤں نے دن رات ایک کرکے ، آخرکار 14 اگست 1947 ء کو ایک آزاد ملک حاصل کر لیا۔
مگر کسی بھی ملک کے نظام کو چلانے کے لیے ایسی قیادت کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو نظم و نسق میں ماہر ہو۔ ریاست کے امور چلانا جانتی ہو۔ دلچسپ یہ ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت کو صرف انیس سو چھیالیس کی وزارتوں میں ہی ایک قلیل عرصے تک کام کرنے کا موقع ملا۔ 3 جون 1947 ء کے اعلان کے ساتھ ہی اگلا مرحلہ نئے ملک کے لیے ضروری انتظامات تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی سربراہی میں مسلم لیگ کے اکابرین تگ و دو میں مصروف تھے کہ برصغیر کی تقسیم کاعمل خوش اسلوبی سے طے ہوجائے۔
یہ تو طے ہوچکا تھا کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم قائد ملت لیاقت علی خان ہونگے جب کہ کابینہ کے خدوخال بھی واضح ہونا شروع ہوگئے تھے ۔ ملک کا نظام ویسٹ منسٹر جمہوریت کی طرز پر پارلیمانی مگر وحدانی کی بجائے وفاقی ہونا قرار دیا گیا تھا۔
پاکستان کے قیام کے اگلے دن،15 اگست 1947 ء کو پاکستان کے پہلے ویزاعظم نے حلف اٹھایا۔ نئے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے وزیر اعظم اور نئی کابینہ کا حلف اٹھایا۔ پاکستان کی اس پہلی کابینہ کے ممبران کی تعداد بشمول وزیر اعظم لیاقت علی خان کے سات تھی۔
وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ابتدائی طور پر دفاع، خارجہ اور دولت مشترکہ کے امور،کشمیر اور سرحدی علاقہ جات کے محکمے اپنے پاس رکھے ۔ وزارت امور خارجہ اور دولت مشترکہ وزارت 27 دسمبر 1947 ء کو سر ظفراللہ کے سپرد ہوئی۔ وہ 24 اکتوبر 1951 ء تک وزیر خارجہ رہے۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد بھی وہ آنے والی حکومتوں میں 1954 ء تک پاکستان کے وزیر برائے خارجہ و دولت مشترکہ امور رہے۔
پاکستان کی پہلی کابینہ کے وزرا اور ان کے محکموں کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
اسماعیل ابراہیم چندری گر:
اسماعیل ابراہم چندریگر احمد آباد گجرات میں1897ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ممبئی سے قانون کی ڈگری لی اور احمد آباد میں وکالت شروع کردی۔ 1924 ء میں احمدآباد کارپوریشن کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1937 ء میں ممبئی اسمبلی کے رکن بنے ۔ 1940 ء سے 1945 ء تک ممبئی مسلم لیگ کے صدررہے۔ 1947 ء میں جب مرکز میں مسلم لیگ حکومت میں شامل ہوئی تو آئی آئی چندریگر کو اس کابینہ میں تجارت کا پورٹ فولیو سونپا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی کابینہ میں آپکو تجارت ، صنعت اور ورکس کے محکمے دیے گئے۔
غلام محمد ملک :
15 اگست 1947 ءکو غلام محمد ملک نےلیاقت علی خان کی حکومت میں بطور حلف اٹھایا۔ وہ پاکستان کے پہلے وزیر خزانہ بنے۔ کچھ عرصے بعد بیماری کے باعث ان کی قوت گویائی بری طرح متاثر ہوگئی تھی ۔ روایات ہیں کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان، غلام محمدملک کو وزارت سے الگ کرنے جارہے تھے کہ اس دوران ان کی شہادت ہوگئی، یوں غلام محمد ملک نہ صرف بچ گئے بلکہ خواجہ ناظم الدین کےبعد ملک کے تیسرے گورنرجنرل بھی بن گئے۔ غلام محمد ملک وزیر خزانہ تھے مگر بعد میں صنعتیں اور ورکس کی وزارت بھی دے دی گئی۔
سردار عبدالرب نشتر:
سردار عبدالرب نشتر 1899ءکو پشاور میں ایک کاکڑ افغان خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہیں نے ابتدائی تعلیم پشاور میں ہی حاصل کی جبکہ علی گڑھ سے قانون کی ڈگری لی۔ اسکے بعد پشاور میں وکالت کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہوئے۔ شروع میں آل انڈیا کانگریس میں شامل ہوئے۔ 1932 ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے رکن بنے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے ویز مواصلات بنے۔بعد میں انہیں گورنر پنجاب بنا دیا گیا۔
راجا غضنفر علی خان :وزیر خوراک، زراعت اور صحت ۔
راجا غضنفر علی خان قائد اعظم کے بااعتماد ساتھی اور آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم لیڈر تھے۔راجا غضنفر علی خان 16 اگست 1895 ء میں جہلم کی تحصیل پنڈ دادن خان میں پیدا ہوئے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم رہنما، قائد اعظم کے قریبی ساتھی اور پاکستان کے پہلے منسٹر تھے، 1948 ء میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پہلے صدر تھے، ایران، ترکی، انڈیا اور اٹلی کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ 1963ءمیں انتقال ہوا اور قائد اعظم کے ان وفادار قریبی ساتھی کو ان کے آبائی علاقہ پنڈ دادن خان میں سپرد خاک کر دیا۔
جوگندر ناتھ منڈل :وزیر قانون ، محنت اور ورکس
جوگندر ناتھ منڈل مشرقی بنگال موجودہ بنگلا دیش سے تعلق رکھتے تھے ۔ ہندو تھے مگر ان کی ذات ہندوؤں میں نیچی یعنی دلت تھی ۔ تعلیم انتہائی نامساعد حالات میں حاصل کی ۔ وکالت کے ساتھ ساتھ دلتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے لگے، یہاں تک کہ ان کی ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے ہوئی ۔ وہ ان کی راست گوئی سے بہت متاثر ہوئے اور جب پاکستان بنا تو بہت سے دلتوں کے سا تھ پاکستان کا حصہ بنے۔ 15 اگست 1947 ء کو پاکستان پہلے وزیر قانون کا حلف اٹھایا ۔ اس سے قبل وہ مجلس آئین ساز پاکستان کی صدارت بھی کرچکے تھے۔ 1950ء میں انہوں نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ۔ ان کا موقف تھا کہ نوزائیدہ مملکت میں ہندوؤں کے ساتھ بہتر سلوک نہیں ہورہا۔ وہ بعد میں بھارت میں منتقل ہوگئے۔ دلچسپ یہ ہے بھارت کے پہلے قانون بھی دلت ہی تھے اور ان کا نام ڈاکٹر امبیدکر تھا۔
فضل الرحمان : وزیر داخلہ ، اطلاعات و نشریات، تعلیم
ان کا تعلق بنگال کے اردو بولنے والے گھرانے سے تھا ۔ ابتدائی تعلیم ڈھاکہ سے حاصل کی ۔ وکالت کے ساتھ فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور اسکی ترقی کے لیے کام شروع کردیا ۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے وزیر تعلیم بنے اور کچھ عرصہ وزیر داخلہ بھی رہے۔
اس کے بعد بھی کابینہ کے اراکین میں کمی بیشی ہوتی رہی جس کی تفصیل یوں ہے :
سر ظفراللہ خان :
وزیرخارجہ و امور دولت مشترکہ ۔ انہیں دسمبر 1947 میں پاکستان کا وزیر خارجہ بنایا گیا۔وہ 24 اکتوبر 1951 تک اس عہدے پر فائز رہے۔
عبدالستار پیرزادہ :خوارک، صحت، قانون اور زراعت
یہ بھی 30 دسمبر 1947 ء سے 24 اکتوبر 1951 ء تک اس عہد پر فائز رہے۔
خواجہ شہاب الدین :وازات داخلہ، اطلاعات و نشریات
خواجہ شہاب الدین 8 مئی 1948 ء سے 24 اکتوبر 1951 ءتک وزیر رہے۔
مشتاق احمد گرمانی :وزیر برائے امور کشمیر
یہ تین جنوری 1949ء سے لے کر 31 اکتوبر 1949 ءتک بغیر محکمے کے وزیر رہے، بعد میں امور کشمیر کی وزارت سونپی گئی۔ دوسرے وقفے میں یہ 1950 ء سے 24 اکتوبر 1951 ءتک وزیررہے۔
سردار بہادر خان :مواصلات
ابتدائی طور مواصلات کا چارج سردار عبدرالرب نشتر کے پاس تھا بعد میں جب انہیں گورنر پنجاب بنایا گیا تو سردار بہار خان کو مواصلات کی وزارت سونپی گئی۔ وہ 10 ستمبر 1949 ء سے 24 اکتوبر 1951ء تک مواصلات کے ساتھ اور وزراتوں پر بھی فائز رہے۔
چوہدری نذیر احمد ، وزیرصنعت
وہ 10 ستمبر 1949ء سے 24 اکتوبر1951 ء تک وزیر رہے۔
ڈاکٹر اے ایم ملک، وزیرصحت
یہ بھی 20 ستمبر 1949 ء سے 24 اکتوبر 1951 ءتک مختلف وزارتوں پر فائز رہے ۔
اس کے بعد وزارئے مملکت کا نمبر آتا ہے۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنی ٹیم میں اس وقت کے قابل لوگ شامل کیے تھے جن کے نام کچھ یوں ہیں ۔
ڈاکٹر محمد حسین: وزیر مملکت برائے ریاستیں و سرحدی امور
ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی : وزیر مملکت برائے مہاجرین و آبادکاری
عزیزالدین احمد : وزیر مملکت برائے اقلیتی امور
اس کے علاوہ اسی دوران میں ڈاکٹر محمد حسین ، ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، سردار بہادر خان، محمود نواز خان ، غیاث الدین پٹھان نےڈپٹی وزیر کے طور پر کام بھی کیا۔
16 اکتوبر 1951 ءکو وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں ایک جلسے کے دوران گولی مار کر شہید کردیا گیا اور اس کے بعد یہ وزارت ختم ہوگئی۔ نئے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین تھے جو پہلے بحیثیت گورنرل جنرل فرائض سرانجام دے رہے تھے۔


