Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: حضرت جی
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

حضرت جی

امیر عبدالقدیر اعوان
امیر عبدالقدیر اعوان
2 مارچ, 2025
شیئر کریں
شیئر کریں

لفظ "حضرت ” یوں تو تعظیم کے طور پہ استعمال ہوتا ہے لیکن تصوف کی رو سے دیکھا جائے تو اِس سے طالب کو مطلوب تک رسائی دینے والی ہستی مراد لی جاتی ہے۔اللہ کریم کا احسان ہے کہ اُس کی ذات نے مجھ جیسے گنہگار کو یہ رشتہ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوانؒ کے ساتھ عطاء فرمایا۔ یہ کیسا عجیب رشتہ ہے کہ جو نازک تر بھی ہے اور مضبوط ترین بھی۔

محترم قارئینِ کرام! حضرت جیؒ کو ذاتِ باری کا جو خاص کرم اور بارگاہِ رسالت مآب ﷺ کی جو خصوصی شفقت حاصل تھی اِس کا بیان محال ہے۔

اُن کا کرم پھر اُن کا کرم ہے
اُن کے کرم کی بات نہ پوچھو

دنیا کے تکوینی امور میں اولیاء اللہ کا اپنا کردار ہے اور حضرت جی رح بحمدللہ حیاتِ مبارکہ کے مختلف ادوار میں مختلف مناصب سے نوازے گئے۔ کافی عرصہ تک آپ رح قطب مدار کے منصب پہ فائز رہے۔ 1977ء میں غوث کا منصب عطا ہوا۔ اپنے شیخ کے وصال، 1984ء میں آپؒ قطبِ وحدت کے منصب پر تھے۔ پھر صدیق اور دنیا سے پردہ فرمانے کے وقت آپؒ عبدیت جیسے منصب پہ فائز تھے جو مناصبِ ولایت میں سب سے بڑا منصب ہے۔

یہاں اگر میں اِن اوصاف کا تذکرہ بھی کروں جہاں تک ایک عام نگاہ بھی جا سکتی ہے تو بھی میرے اللہ نے اُنھیں نہایت خوبصورت بنایا۔ من جانبِ اللہ انسانی خوبیوں کے دو ایسے متضاد پہلوؤں کے کمال پہ تھے جو اپنی اپنی جگہ لائقِ تحسین ہے۔ اُن میں بلند حوصلگی ایسے تھی کہ بڑے سے بڑے طوفان کے مقابل ڈٹ کے اُس کا رُخ موڑنے کی جرات رکھتے تھے اور دوسری طرف احساسات میں نزاکت ایسی کہ کسی کی معمولی تکلیف بھی اِنہیں بے چین کر دیتی۔

جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ھو وہ شبنم
دریاؤں کے دِل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

مزاج میں سختی ایسی کہ کوئی بات، کوئی چیز یا کوئی شخص اُنھیں اُن کے اصول و ضوابط سے منحرف نہیں کر سکتا تھا اور نرمی ایسی کہ مظلوم کی آہ اُنہیں چشم تر کر دیتی۔ دراصل اُن کی سختی میں جبر نہ تھا اور نرمی میں بزدلی نہ تھی۔ وہ انسانی جذبات و احساسات کو اِس طرح سمجھتے تھے گویا مخاطب کو وہ خود اُس سے بڑھ کے جانتے ہوں۔ میں نے اُنھیں کسی کی تکلیف بیان کرتے ہوئے اکثر یوں بھی بچشمِ نم دیکھا کہ اُنھیں بارہا آنکھیں صاف کرنا پڑیں۔ اُنھیں کچھ زیادہ ناگوار گزرتا تو غصہ سے ڈانٹ لیکن شدید غصے میں وہ بالکل خاموش ہو جاتے۔

مزاج میں مروت ایسی تھی کہ بہت سی ناپسندیدہ باتیں نظر انداز کر جاتے لیکن دینِ حق کی بات ہوتی تو چھوٹے سے چھوٹے نقطے پہ بھی ٹوک دیتے۔ وہ ہر شخص اُس کی ذہنی سطح اور قلبی کیفیت کے مطابق سنتے، سمجھتے اور بات فرماتے۔ یہی چیز اُن کی تقریر میں بھی تھی اور تحریر میں بھی۔ اُن کی تقریر و تحریر میں یہ خوبی و حسن تھا کہ ایک عالِم اُس سے اپنی ذہنی استعداد کے مطابق فیض یاب ہوتا اور ایک آدمی اپنی حیثیت کے مطابق سمجھتا۔ تعلیمی قابلیت کا تضاد ہو یا طبقاتی فرق، ذہنی استعداد کا اختلاف ہو یا روحانی پختگی کے مدارج، ہر شخص مستفید ہو رہا تھا۔

وہ انتہائی دانا اور نہایت سادہ دل تھے۔ انہوں نے فقیری میں شاہی کی اور شاہی میں فقیری۔ اُن کا رکھ رکھاؤ شاہانہ لیکن مزاج فقیرانہ تھا۔ اُن کے دستر خوان پہ اعلیٰ انواع کے کھانے چُن دیے جاتے وہ تو بھی خوش رہتے۔ اپنی مشاہداتی قوت میں بھی وہ عجیب تضاد رکھتے تھے۔ مخاطب کے لباس کا رنگ اُنھیں یاد نہ ہوتا لیکن اُس کے ظاہر و باطن کے عیب و ہنر اُن پہ خوب آشکارا ہوتے۔

کلامِ ذاتِ باری تعالیٰ میں اُن کی شرح صدر ایک کرامت تھی۔ اگر ایک ہی آیہ مبارکہ کی چار مرتبہ تشریح فرماتے تو چاروں دفعہ اُن کا بیان اِس آیہ مبارکہ کے چار پہلو کھول کے سامنے رکھ دیتا۔ اِسی لیے اُن کی تینوں تفاسیر اسرار التنزیل ، اکرم التفاسیر، رب دیاں گلاں میں یکسانیت یا تکرار نہیں ملتی۔ اُن کا باطن ہی نہیں اُن کا ظاہر بھی حُسنِ بے مثال کا حامل تھا۔ قد، جسامت، رنگت ، اعضاء و جوارح کا تناسب، ہاتھ پیر غرض وہ پورے کے پورے مجسم نمونہ حسن تھے۔ ہاں ایک چیز ایسی تھی اُن کی نگاہ! کسی میں اُن سے نظر ملا کر بات کرنے کا یارا نہ تھا۔

قارئینِ کرام! الحمدللہ میری حیات میں بہت سے عزیز از جان چہرے ہیں لیکن فقط ایک ہی چہرہ تھا جو خود میرے لئے جینے کا جواز تھا۔ میری صبح، میری شام اُسی رُخِ انوار سے طلوع و غروب ہوتی تھی۔ میری نگاہ اُن کے اشارہ ابرو کی منتظر رہتی اور اُن کی ہر رضا میرے لیے مقصودِ حیات تھی۔ میری زندگی کا ہر فیصلہ اُن کی اجازت بلکے اُن کی خوشی پہ منحصر ہوتا۔ ہر کوشش، ہر جہد اور ہر کام اُن کی خاطر تھا۔ اُن ہی کے لیے تھا۔ گویا میرا ہونا، اُن کے ہونے سے مشروط تھا۔ میں ، میں نہیں رہا تھا، آپ ہو چکا تھا۔

آج ۔۔۔۔۔۔اُن کے پردہ فرمانے پہ زندگی کا جواز وہی امانت ہے جس کا بار وہ میرے سپرد فرما گئے ہیں۔ ورنہ میری زندگی کا اعلیٰ ترین دور گزر گیا۔ اِس ثانوی دور کی اہمیت بھی فقط اُن کے حکم کی تعمیل کی طلب کے دم سے ہے۔ آج بھی میری تمام تر کوششیں اِس عظیم امانت کا نہایت احسن طریقے سے قرض لوٹانے کے لئے ہیں۔ اللہ کریم مجھے اِس میں سرخرو فرمائیں۔آمین۔

سلسلہ عالیہ کے احباب عزیز تو پہلے بھی تھے مگر اب عزیز تر ہیں کہ میرے حضرت جی (رح) کی امانت ہیں۔ سلسلہ عالیہ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار تو میں کل بھی تھا مگر آج یہ جذبہ شدید تر ہے کہ میرے حضرت جی رح کی امانت ہے۔ یہ شب و روز کی ریاضتیں، اہمیت تو کل بھی رکھتی تھیں مگر اب تو میرا مقصدِ حیات ہیں کہ میرے حضرت جی رح جو ذمہ داری سونپ گئے ہیں اُسے نبھانا ہی نہیں، احسن طریقے سے نبھانا ہے۔

گویا میری زندگی کا محور پہلے بھی اور آج بھی وہی ہے میرے حضرت جیؒ !!

حیف در چشمِ زدن صحبتِ یار آخر شُد
روئے گل سیر ندیدم وبہار آخر شد

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
29°C
Jhelum
clear sky
29° _ 29°
75%
2 km/h
پیر
39 °C
منگل
37 °C
بدھ
37 °C
جمعرات
36 °C
جمعہ
33 °C

تازہ ترین

جہلم میں شہدائے کربلا اور نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا گیا
9 اگست, 2026
پی ڈی ایم اے نے مون سون کا 5 واں اسپیل شروع ہونے کی پیشگوئی کردی
9 اگست, 2026
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم سنگ میل ہے، چوہدری فرخ الطاف
9 اگست, 2026
جہلم میں کرپشن کے خلاف آگاہی واک، شفافیت اور دیانت داری کے فروغ کا عزم
9 اگست, 2026
جعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کے خلاف کارروائیاں سخت، 100 سے زائد مشکوک گاڑیاں پکڑی گئیں
9 اگست, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

بس آ گئی تے ہو گئی!

9 اکتوبر, 2025

یاد رفتگاں!

7 جنوری, 2024

نئی حلقہ بندیاں اور جہلم کی سیاست؛ کیا موروثی سیاست کا سورج غروب ہونے والا؟

3 جون, 2026

برطانیہ میں مساجد تحریک کے بانی پیر معروف حسین نوشاہی کون تھے؟

26 جولائی, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں