دینہ شہر کہنے کو تو شہر ہے تحصیل بھی ہے مگر عملاً قصبہ کیا گاؤں بھی نہیں۔ اس شہر سے زیادہ صاف ستھرے اور منظم پنجاب کے کئی دیہات ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان دیہات میں نہ تو میونسپل کمیٹی اور نہ بھاری صفائی کا عملہ اور نہ نہایت ہی اہم عہدہ اسسٹنٹ کمشنر کی نگرانی کا کوئی شرف حاصل ہے۔
پنجاب میں جب سے بلدیاتی اداروں کو منتخب ایڈمنسٹریشن سے لیکر اسسٹنٹ کمشنر ز کو ایڈمنسٹریٹر بنایا گیا ہے بلدیاتی ادارے ایڈیشنل چارج کےتحت چلائے جا رہے ہیں۔ ان کے معاملات بھی اضافی ذمہ داری کے زمرے میں آتے ہیں۔ کوئی آوے آوے نہ اوے۔
عیدالاضحٰی کے انتظامات کے سلسلے میں میونسپل کمیٹی دینہ کے پہلے دن جن چار سپروائزر کی ڈیوٹی لگائی گئی افردی قوت کے ساتھ مشینری فراہم کی گئی ان میں سے تین چار بجے ہی بھاگ گئے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان پر مامور افسران ان سے پہلے اسٹیشن چھوڑ چکے تھے۔
دینہ کی عوام کو ہدایت کی گئی تھی کہ آلائشوں کو وہ باہر کھلا نہ پھینکیں اس لئے ساری رات آلائشیں لوگوں کے گھروں میں تعفن پھیلاتی رہیں۔ دوسرے دن پہلے دن کے شور و غوغا کی وجہ سے آلائشوں کو بلدیہ نے اٹھایا۔ جہلم کی حد تک جو معیار بنایا گیا وہ دینہ میں کہیں نظر نہ آیا کیا دینہ کی عوام اسی طرح اضافی ذمہ داری کا شکار ہوتے رہیں گے۔ چونکہ پہلے دن ڈپٹی کمشنر جہلم کے وزٹ کا سین تھا اور جب یہ کنفرم ہوا کہ وہ نہیں آ رہیں تو آفیسر چھوڑ ماتحت بھی غائب، اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔
ڈپٹی کمشنر جہلم سیدہ رملہ علی کو میونسپل کمیٹی دینہ کے آفیسرز اور اہلکاروں کی لاپرواہی، غیر ذمہ دارانہ رویہ کو لاہور ہائیر اتھارٹی کو مطلع کرنے کی تجویز ہے تاکہ اس طرح کے رویے کو کنٹرول کر کے عوام الناس کو کم از کم ایک سال بعد دی جانے والی سروسز کا تو اہتمام ہوسکے۔


