ڈرون ٹیکنالوجی، جدید ترین میزائل، لڑاکا طیارے، جنگی ہیلی کاپٹر، ہدف کو تلاش کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس آلات اور جدید اسلحہ ہونے کے باوجود ” کچے کے ڈاکوؤں ” کے ساتھ وہی روایتی بندوقوں اور پستولوں سے لڑائی کی آخر کیا تک بنتی ہے ؟
گزشتہ روز رحیم یار خان میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر جتنے دکھ کا اظہار کیا جائے کم ہے۔ اس سے قبل بھی کئی پولیس اہلکار شہید کیے جا چکے ہیں، درجنوں زخمی اور معذور کر دیے گئے ہیں مگر ارباب اختیار کے لیے پولیس کا محکمہ کوئی معنی نہیں رکھتا؟ پولیس اہلکار کیا انسان نہیں ؟ پولیس والوں کے بیوی بچے نہیں ؟ پولیس والوں کی کوئی ذاتی زندگی نہیں ؟
جب کوئی پولیس اہلکار ہماری حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو جاتا ہے تو کیا اس ماں کا کلیجہ نہیں پھٹتا؟ کیا اس کے باپ کا دل نہیں روتا ؟ کیا اس کے بچے یتیم نہیں ہوتے کیا؟ اس کی بیوی بیوہ نہیں ہوتی ؟ کیا پولیس اہلکار کا گھر ویران نہیں ہوتا ؟
اگر ان سب باتوں کا جواب ” ہاں ” ہے تو پھر پولیس کو ایک دفاعی ادارہ سمجھ کر اس میں جدت کیوں نہیں لائی جا رہی۔ آج بھی اکثریت پولیس کے پاس وہی صدیوں پرانی روایتی رائفل اور وہی روایتی پستول موجود ہیں جبکہ شاید ہی کسی ایس ایس پی یا ڈی پی او رینک کے پاس بلٹ پروف گاڑی ہو۔
پولیس موبائل وین بھی صرف نام کی ہی گاڑیاں ہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ جتنی بھی پولیس موبائل وین ہیں ان کو بلٹ پروف ہونا چاہیے اور میرے خیال سے شاید ہی کسی تھانہ میں اتنی بلٹ پروف جیکٹس ہوں جتنی نفری وہاں موجود ہوتی ہے۔ پولیس اہلکاروں کے پاس تو وافر مقدار میں گولیاں تک موجود نہیں ہوتیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ملزمان کسی پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دے تو اس کے پاس بچاؤ اور جوابی کارروائی کے لیے اسلحہ اور گولیاں ہی موجود نہیں ہوتیں اور اگر ہوں تو ان کو چلانے کی اجازت نہیں۔ حکومت کوئی بھی ہو کسی نے بھی پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کی کوشش نہیں کی، البتہ وردیوں کا رنگ ضرور تبدیل کیا گیا۔
ہم ایک عشرے سے کچے کے ڈاکوؤں کے بارے سن اور دیکھ رہے ہیں مگر یہ کیسا "کچہ ” ہے جہاں کے ڈاکوؤں کے پاس ہر قسم کے "پکے ” ہتھیار موجود ہیں، حتی کہ ان کے پاس اینٹی ایئر کرافٹ گنز بھی موجود ہیں، ان کے پاس جدید قسم کا گولا بارود اور بکتر بند گاڑیاں تک موجود ہیں۔ تین سے چار سو کچے کے ڈاکو اتنے طاقتور اس لیے ہیں کہ ان کا قلع قمع کرنے والے پولیس کے جوانوں اور افسران کو وہ سہولیات اور وسائل ہی نہیں دیے جاتے جس کی وجہ سے ان کے خلاف موثر آپریشن ممکن نہیں ہو سکتا۔
میں زیادہ گہرائی میں نہیں جانا چاہتا کہ ان کچے کے ڈاکوؤں کی پشت پناہی پکے کے علاقوں سے کون کون کر رہا ہے اور یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ پولیس میں ہی موجود کالی بھیڑیں بھی ان کی مخبر ہیں جو انہیں یہ اطلاع دے دیتے ہیں کہ آج ان کے خلاف یا ان کے آس پاس پولیس کی ہل چل ہونے والی ہے۔
میرا مدعا یہ ہے کہ ہماری سکیورٹی فورسز کے پاس ہر قسم کی جدید سے جدید ٹیکنالوجی موجود ہے، ہمارے پاس ڈرونز موجود ہیں، جدید ہتھیار موجود ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ان ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں یہ پولیس کو فراہم نہیں کیے جا سکتے اور اگر پولیس ان ڈاکوؤں کو مقابلہ نہیں کر سکتی تو وہاں نیم فوجی آپریشن کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ جیسے کہ وزیرستان اور باقی علاقوں میں جاری ہے۔ کیا یہ کچے کا علاقہ جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہ نہیں؟ کیا یہ ڈاکو بھی دہشت گردوں کے زمرے میں نہیں آتے؟ کیا ان ڈاکوؤں نے بھی دہشت گردوں کی طرح عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا ؟
اگر کچے کے علاقے میں فوجی آپریشن نہیں کیا جا سکتا تو پھر پولیس فورس کو ان تمام ہتھیاروں سے لیس کیا جائے جو کسی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں استعمال ہوتے ہیں۔
خدارا پولیس کے جوانوں کو بھی ایک فورس کے جوان کی طرح ہی سمجھیں اور اسے بھی نہ صرف سب سے پہلے اپنی حفاظت کے لیے سب کچھ دیں بلکہ اسے جدید ٹیکنالوجی بھی فراہم کریں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ پولیس کے جوان بھی بارڈر پر موجود ایک فوجی کے جذبہ کے تحت دشمن کی اینٹ سے اینٹ بجانے سے ہچکچائے گا۔
ایک بار پولیس کو سیاسی مقاصد کے استعمال کی بجائے شہریوں کی حفاظت کی پوری ذمہ داری دے کر دیکھ لیں وہ بھی بغیر کسی سیاسی دباؤ کے پولیس افسران کو اپنے فیصلے لینے دیں اور آخری بات کہ پولیس کے شہداء کو بھی ملک کی خاطر جان دینے والے جوانوں کے برابر کا اعزاز و رتبہ دیں، یہ بھی وطن کے ہی سپوت ہیں جو بے سروسامان ہماری حفاظت کے لیے چوبیس گھنٹے تیار رہتے ہیں۔
پولیس کے شہداء اور غازیوں کو سلام
پنجاب پولیس زندہ باد
پاکستان پائندہ باد


