پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے جو علامہ محمد اقبال کے خواب اور بانی پاکستان قائد اعظم کی انتھک محنت اور جدوجہد کے بعد آزاد ہوا۔ اس کی آزادی کے لیے بزرگوں نے عظیم قربانیاں دیں، ہجرت کے وقت لوگوں کی آنکھیں اشکبار تھیں، اس آزاد ملک میں اقلیتوں کے مساوی حقوق تھے لیکن آج کے حالات واقعات سے ایسے محسوس ہوتا ہے لوگ آزاد نہیں غلام ہیں۔
نہ صحافی اپنے فرائض احسن طریقے سے سرانجام دے سکتے ہیں، نہ ہی سیاستدان اپنے دل کی بات آزادی سے کہہ سکتے ہیں اور اس ملک کے باسی تو اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج بھی نہیں کرسکتے۔ کوئی وڈیروں کا غلام ہے، تو کسی علاقے میں سرداروں کا راج ہے۔
کچھ واقعات ایسے ہیں کہ جن سے عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہوئی۔ سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں ایک سر لنکن باشندے کو سرے عام سڑکوں پر تشدد کے بعد زندہ جلا دیا گیا۔ جہلم میں چند سال قبل مذہب کی آڑ میں ایک فیکٹری نذر آتش کردی گئی۔ بیرون ممالک جہاں آزادی ہے وہاں کسی ملک میں گستاخی یا توہین ہوئی تو پاکستان میں احتجاج، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ شروع ہوگئی، سڑکیں راستے بند کرکے اپنے لوگوں کو تکلیف پہنچائی گئی،ایمبولینسزمیں مریض تڑپتے رہے۔
ایک اور واقعہ گزشتہ روز جڑانوالہ میں پیش آیا جہاں ایک چرچ میں توڑ پھوڑ کی گئی، اس افسوسناک واقعہ کے بعد مسیحی برادری کے کچھ لوگ اس قدر خوفزدہ ہوئے کہ انہیں فصلوں اور کھیتوں میں چھپ کر کھلے آسمان تلے بچوں سمیت رات گزارنی پڑی۔
ایک دفعہ پھر پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی "ایسا کیوں ہورہا ہے” اگر کسی نے بے حرمتی یا گستاخی کی توقانونی طریقہ کار کیوں نہ اپنایا گیا،مقدمہ درج کروایا جاتا، تفتیش اور انکوائری ہوتی، اگر کوئی گناہگار پایا جاتا تو اسکے خلاف کارروائی ہوتی لیکن افسوس کہ ہم قانون ہاتھ میں لینے کے عادی ہوچکے ہیں اور اسکی وجہ یہ ہے کہ ملک میں آئین اور قانون نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی، گناہ گار آزادی گھومتے ہیں اور بے گناہ کئی کئی ماہ تک جیلوں میں بند رہتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دئیے جائیں، آزاد ملک ہے تو آزادی سے زندگی گزارنے دی جائے لیکن افسوس کہ 76سال گزرنے کے باوجود ہم آزاد نہیں ہیں۔


