جہلم: ملک بھر کی طرح جہلم میں بھی نیشنل ڈیزاسٹر ڈے (آفات سے بچاؤ کی آگاہی کا قومی دن) منایا گیا۔
ڈپٹی کمشنر جہلم سیدہ رملہ علی اور سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر رضوان نصیر(ستارہ امتیاز) کی ہدایات پر جہلم میں ریسکیو 1122نے 8 اکتوبر 2005 میں زلزلے میں زخمی اور جاں بحق ہونے والے شہیدوں کی یاد میں اس عزم سے منایا کہ سانحات سے نبرد آزما ہونے کے لیے قبل از وقت تیاری ضروری ہے۔
اس سلسلے میں آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا جس کی سربراہی ڈپٹی کمشنر جہلم سیدہ رملہ علی نے کی۔ اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ، ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کوآرڈینیٹر جہلم، پنجاب پولیس، سول ڈیفنس، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، ریسکیوز، ریسکیو والنٹیر اور مختلف اداروں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی سے توصیف بیگ، فرحت کمال ضیاء اور علی عباس زیدی نے بھی شرکت کی۔
واک کے بعد ریسکیو اسٹیشن جہلم پر فرضی مشقیں بھی کی گئیں جس کی مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر جہلم سیدہ رملہ علی تھیں۔ ان مشقوں میں روڈ ٹریفک حادثے میں طبی امدا پہنچانا، فائر فٹنس اور بلند عمارت سے بندہ کو ریسکیو کرنا شامل تھا۔ علاوہ ازیں آفات سے آگاہی کے متعلق سنٹرل اسٹیشن پر سیمینار کا انعقاد بھی کیا گیا۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جہلم سیدہ رملہ علی نے کہا کہ آفات سے بچاؤ کی آگاہی کا قومی دن منانے کا مقصد عوام میں آگاہی پہنچانا ہے جبکہ آگاہی واک کے شرکاء نے زلزلے میں وفات پانے والے لوگوں کے لیے دعا کی اور پسماندگان کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا جن کو اس قدرتی آفت میں جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر سعید احمد نے کہا کہ لوگوں کو ایمرجنسی کی صورت میں بلا امتیاز رنگ و نسل 24گھنٹے ریسکیو سروس دستیاب ہے۔ اگرچہ ریسکیو 1122جہلم اب تک ہزاروں ایمرجنسیز سے متاثرہ لوگوں کو مدد فراہم کر چکی ہے مگر محفوظ معاشرے کے قیام کے لیے عوام الناس میں آگاہی اور حادثات سے روک تھام کے لیے ریسکیو کی ٹریننگ بہت ضروری ہے اور بلند و بالا عمارات میں فائر سیفی آلات کی تنصیب و ہنگامی انخلاء کے منصوبے کا ہونا بھی ضروری ہے اور ایسا نظام وضع کیا جائے کہ بہتر تیاری اور منصوبہ بندی سے آنے والے حادثات سے نمٹا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں شہریوں کو چاہئے کہ ریسکیو1122کے کمیونٹی سیفٹی ونگ سے مفت ٹریننگ حاصل کریں اور ریزیلنس کمیونٹی کا قیا م عمل میں لائیں تاکہ کسی بھی بڑے حادثے یا سانحہ کی صورت میں فوری طور پر امدادی اقدامات میں اپنا حصہ ملا کر قیمتی جانوں کو بچا سکیں اور محفوظ معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔


