تعلیم کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے تعلیمی نظام نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ وہ وقت بھی تھا جب بچے سکول میں ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھتے تھے، سلیٹ اور تختی پر حروف جوڑتے تھے اور استاد کے سامنے ادب اور احترام کے ساتھ علم حاصل کرتے تھے۔ آج وہی تعلیمی نظام جدید دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں کمپیوٹر، ڈیجیٹل بورڈ، آن لائن کلاسز اور جدید ٹیکنالوجی نے علم کے دروازے مزید وسیع کر دیے ہیں۔ یہ سفر صرف سہولیات کی تبدیلی نہیں بلکہ سوچ، معیار اور ذمہ داری کی تبدیلی بھی ہے۔
تعلیم کی اہمیت کسی بھی شعبے میں نظر انداز نہیں کی جا سکتی، خصوصاً صحافت جیسے حساس اور ذمہ دار پیشے میں۔ صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے کیونکہ صحافی معاشرے کی رہنمائی کرتے ہیں، سچ کو عوام تک پہنچاتے ہیں اور عوام اور اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صحافت جیسے باوقار شعبے میں تعلیم اور علمی معیار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
میں بطور شہری اور قلم کار اپنے ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ اداروں سے مودبانہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ صحافت میں ایک باقاعدہ تعلیمی کیٹیگری متعارف کروائی جائے۔ جس طرح دیگر شعبوں میں قابلیت اور اہلیت کو بنیاد بنایا جاتا ہے، اسی طرح صحافت میں بھی بنیادی تعلیمی معیار کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ صحافت کا وقار مزید بلند ہو اور معاشرے کو بہتر رہنمائی میسر آ سکے۔
میری تجویز یہ ہے کہ ضلعی سطح پر ایک ایسا عملی اقدام کیا جائے جس میں حکومت کی سرپرستی میں، جب سکول بند ہوں، تو کسی کالج یا یونیورسٹی کا ایک ہال ایک دن کے لیے حاصل کیا جائے۔ اس پروگرام میں ضلع بھر کے تمام صحافیوں کو مدعو کیا جائے اور وہاں ایک تعلیمی معیار کو جانچنے کے لیے آدھے گھنٹے کی املا (Dictation) لی جائے۔ اس عمل کا مقصد کسی کی تضحیک نہیں بلکہ صحافت کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
اس املا میں جو صحافی ستر فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کرے، اسے صحافتی نشست میں بٹھایا جائے یا اسے باقاعدہ صحافتی کارڈ جاری کیا جائے۔ اس طرح ایک مثبت مقابلے کا رجحان پیدا ہوگا، صحافی اپنی علمی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے اور صحافت کا معیار مزید مضبوط ہوگا۔
یہ اقدام نہ صرف صحافت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ نوجوان نسل کو بھی یہ پیغام دے گا کہ صحافت ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور علمی شعبہ ہے۔ جب صحافت میں تعلیم اور معیار کو ترجیح دی جائے گی تو یقیناً معاشرے میں مثبت تبدیلی آئے گی اور عوام کو مستند اور معیاری معلومات فراہم کی جا سکیں گی۔


