برکۃالعصر، بقیۃالسلف، پیکرِ اخلاص حضرت مولانا مفتی محمد شریف عابر رحمۃ اللّٰہ علیہ سرپرستِ اعلیٰ و رئیس دارالافتاء جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام مدنی محلہ جہلم، ضلع جہلم کی ایک ممتاز، بااعتماد دینی، روحانی اور علمی شخصیت تھے۔ آپ ولیِ کامل، مجاہد فی سبیل اللّٰہ، خطیبِ جہلم حضرت مولانا عبداللطیف جہلمیؒ کے دستِ راست اور معتمد علیہ تھے۔
حضرت مفتی صاحبؒ کی حیات و خدمات پر بہت کچھ لکھا جائے گا اور لکھا جانا بھی چاہیے۔ آپ علم و عمل کا نمونہ، حکمت و بصیرت، دانائی، زہد و تقویٰ اور عاجزی کے پیکر تھے۔ آپ مرجعِ خلائق تھے اور اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو کمال درجے کی شانِ محبوبیت عطا فرمائی تھی۔ المختصر کہ حضرت مفتی صاحبؒ جامع الصفات اور ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھے۔
آپ نے اپنی پوری زندگی علمِ دین، درس و تدریس، وعظ و تقریر، افتاء، دعوت و اصلاح اور اہلِ السنۃ والجماعۃ کے عقائد و نظریات کی تبلیغ و اشاعت اور خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
حضرت مولانا مفتی محمد شریف عابر نوراللّٰہ مرقدہ 1930ء میں علاقہ ڈومیلی (تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم) کے نواحی گاؤں رسیلہ کلاں میں پیدا ہوئے۔ مڈل تک عصری تعلیم حاصل کی، اس کے بعد کھیوڑہ نمک کی کان میں اور کوہاٹ بجلی گھر میں ملازمت کے لیے گئے لیکن واپس لوٹ آئے۔
اللّٰہ تعالیٰ نے اس “نفسِ زکیّہ” سے اپنے دینِ متین کی عظیم الشان خدمت کا کام لینا تھا، چنانچہ نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو علاقہ ڈومیلی کی معروف علمی، دینی اور روحانی شخصیت حضرت مولانا حکیم سید علی شاہ صاحب گیلانیؒ کی خدمت میں جا پہنچے، ان سے قلبی اور روحانی تعلق قائم ہو گیا۔ حضرت شاہ صاحبؒ ہی کی تحریک پر آپ باضابطہ علمِ دین کے حصول کے لیے 14 اگست 1952ء کو اپنے آبائی علاقہ ڈومیلی سے کم و بیش 49 کلومیٹر کا پیدل سفر کر کے مدرسہ حنفیہ واقع مرکزی جامع مسجد گنبد والی جہلم پہنچے۔ ولیِ کامل، خطیبِ جہلم حضرت مولانا عبداللطیف جہلمیؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی۔
سن 1953ء کی ملک گیر تحریک ختمِ نبوت شروع ہوئی تو حضرت مولانا عبداللطیف جہلمیؒ کے شانہ بشانہ بھرپور حصہ لیا۔ تحریک ختمِ نبوت میں حضرت جہلمیؒ گرفتار ہو گئے تو ان کی اسیری کے دوران حضرت جہلمیؒ کے والدِ بزرگوار، خطۂ پوٹھوہار کے جیّد عالمِ دین حضرت مولانا حافظ محمد شادمان خان صاحبؒ سے جامع مسجد گنبد والی جہلم میں فارسی کی بنیادی اہم کتب پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔ اس دوران تحریک ختمِ نبوت میں بھی سرگرمِ عمل رہے، یہاں تک کہ آپ کو بھی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا اور یوں تحفظ ختمِ نبوت کی خاطر آپ کو بھی جیل جانے کا شرف اور اعزاز حاصل ہوا۔
حضرت جہلمیؒ کی صحبت نے انہیں دورانِ طالب علمی ہی گویا کندن بنا دیا تھا اور وہ فولادی جذبوں کے ساتھ تحریکی مزاج کے مردِ آہن بن گئے تھے۔
رمضان المبارک 1377ھ، موافق 1958ء میں قطبِ زماں، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی خدمت میں پہنچ کر دورۂ تفسیر مکمل پڑھا اور حضرت لاہوریؒ کے چشمۂ فیض سے خوب سیراب ہوئے۔ اس دورۂ تفسیر میں شہیدِ اسلام حضرت مولانا سمیع الحق صاحبؒ اور حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحبؒ آپ کے ہم درس رہے۔
1960ء میں وطنِ عزیز پاکستان کی معروف دینی درسگاہ جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث شریف کا آغاز کیا، جہاں امام اہلِ سنت، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللّٰہ، مفسرِ قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی رحمہ اللّٰہ، حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی رحمہ اللّٰہ اور حضرت مولانا قاضی عزیز اللّٰہ رحمہ اللّٰہ جیسی نابغۂ روزگار شخصیات کے علوم و معارف سے مستفیض ہوئے، اور جنوری 1961ء میں دورۂ حدیث شریف سے فراغت ہوئی۔
دورۂ حدیث شریف سے فراغت کے بعد جامعہ خیر المدارس ملتان میں خیر العلماء حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر محض چونتیس (34) دنوں میں افتاء کا بنیادی اور ضروری کورس مکمل فرمایا۔
تکمیل کے بعد جہلم لوٹ آئے اور جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم میں باقاعدہ درسِ نظامی پڑھانا شروع فرمایا۔
جامعہ کے بانی و مہتمم حضرت مولانا عبداللطیف جہلمیؒ نے تدریس کے ساتھ ساتھ فقہ میں آپ کے ذوق اور رسوخ کو دیکھتے ہوئے جامعہ حنفیہ میں افتاء جیسے اہم، حساس اور ذمہ دارانہ منصب پر آپ کو فائز فرما دیا۔ اس منصبِ جلیلہ پر حضرت مفتی صاحبؒ طویل عرصہ تک پوری محنت، احتیاط اور ذمہ داری سے علمی و شرعی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ مرکزی جامع مسجد گنبد والی جہلم شہر میں تشریف فرما ہوتے تو عوام و خواص کے لیے شرعی رہنمائی کا معتبر مرکز سمجھے جاتے تھے۔
حضرت مفتی صاحبؒ اپنے متوازن علمی مزاج، مضبوط فقہی بصیرت اور اخلاص کی وجہ سے معروف تھے۔ مسائلِ شرعیہ میں آپ کی رائے اعتماد کے ساتھ قبول کی جاتی، اور اختلافی امور میں بھی آپ حکمت، اعتدال اور دلائل کے ساتھ بات فرماتے۔ درس و تدریس، فتویٰ نویسی اور اصلاحِ معاشرہ آپ کی نمایاں خدمات میں شامل تھیں۔ چنانچہ آپ کے قلمِ حق نویس سے مرتب ہونے والے فتاویٰ جات کی تعداد ساڑھے ستائیس سو (2750) سے زائد ہے۔
سن 1953ء کی تحریک ختمِ نبوت میں حصہ لینے کے علاوہ حضرت مفتی صاحبؒ نے دیگر اہم تحریکوں میں بھی بھرپور حصہ لیا۔
1965ء میں جنگ کے دوران مقبوضہ کشمیر کے مجاہدین کی امداد اور بحالی کے لیے جمعیت علمائے اسلام پاکستان نے میرپور، افضل پور، چومکھ وغیرہ میں کیمپ قائم کیے۔ باوجودیکہ حضرت مفتی صاحبؒ تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے، لیکن ایک رضاکار خادم کی حیثیت سے بے مثال کام کیا۔
1967ء میں جمعیت کے زیرِ انتظام تاریخی کانفرنس موچی دروازہ لاہور منعقد ہوئی تو لاہور دفتر سے جہلم، حضرت جہلمیؒ سے کانفرنس کے انتظامات کے لیے رضاکار بھیجنے کی درخواست کی گئی۔ حضرت جہلمیؒ نے مولانا مفتی محمد شریف صاحبؒ کی سرپرستی میں رضاکاروں کا دستہ بھیجا۔ کانفرنس کے بعد کانفرنس کی روداد ترجمانِ اسلام میں شائع ہوئی، جس میں مولانا قاری نور الحق صاحب ایڈووکیٹ ملتان نے مفتی صاحبؒ کی کارکردگی کی احسن انداز میں تحسین کی۔
1970ء کے انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان نے کھجور کے نشان سے ضلع جہلم کی قومی اسمبلی کی نشست پر ڈومیلی والے حضرت مولانا حکیم سید علی شاہ صاحب گیلانیؒ کو اور صوبائی نشست پر حضرت مولانا عبداللطیف جہلمیؒ کو ٹکٹ جاری کیے تو پورے ضلع میں ان حضرات کی انتخابی مہم میں حضرت مفتی صاحبؒ نے بھرپور حصہ لیا اور ملک میں نفاذِ اسلام کے لیے عملی مساعی فرمائیں۔
جانشینِ امام الاولیاء حضرت مولانا عبیداللّٰہ انور صاحبؒ، مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحبؒ اور مجاہدِ ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی صاحبؒ کی جہلم آمد پر حضرت جہلمیؒ کی زیرِ سرپرستی ضلع بھر میں طوفانی دورے کروائے۔
قائد اہلِ سنت، وکیلِ صحابہ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحبؒ، ولیِ کامل حضرت مولانا عبداللطیف جہلمیؒ اور ڈومیلی والے حضرت مولانا حکیم سید علی شاہ صاحب گیلانیؒ جب جمعیت علمائے اسلام سے اپنے اصولی مؤقف کی بنیاد پر مستعفی ہوئے اور توحید و سنت کے فروغ اور عقائد اہلِ سنت والجماعت کی ترویج و اشاعت کے لیے تحریک خدام اہلِ سنت والجماعت کے پلیٹ فارم سے میدانِ عمل میں اترے تو حضرت مفتی صاحبؒ ایک خادم کی حیثیت سے ان حضرات کے “سفینۂ نجات” میں سوار ہو گئے اور ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ رہے۔
اور انہی تینوں حضرات کے ساتھ جہلم شہر و گرد و نواح کے دیہی علاقوں میں تبلیغِ دین کے لیے بیشتر مشکل اسفار بھی کیے۔ آپ تحریک خدامِ اہلِ سنت والجماعت ضلع جہلم کے امیر بھی رہے، جہاں آپ نے عقائدِ اہلِ سنت کے تحفظ، بدعات کی تردید اور دینی شعور کی بیداری کے لیے رہنمائی فرمائی۔
حضرت جہلمیؒ کی تربیت اور صحبت کا خاص اثر تھا کہ درس و تدریس، وعظ و تقریر، غمی و خوشی کے مواقع، دورانِ سفر پبلک ٹرانسپورٹ میں اور بس اسٹاپوں پر، نجی مجالس ہوں یا مجمعِ عام—الغرض کوئی موقع اور مقام ایسا نہیں ہوتا تھا جہاں حضرت مفتی صاحبؒ نے عقائد اہلِ سنت کو بیان نہ فرمایا ہو اور عوام کے عقائد و اعمال کی اصلاح نہ فرمائی ہو۔ گویا مدنی اور لاہوری رنگ آپ پر اس قدر غالب تھا کہ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت میں بڑے بڑوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے اور “بلا خوفِ لومة لائم” ڈنکے کی چوٹ پر حق بات کہہ گزرتے تھے۔
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
حضرت مولانا مفتی محمد شریف عابر نوراللّٰہ مرقدہ کا انتقال پُرملال 31 دسمبر 2025ء بروز بدھ سہ پہر تین بجے 95 برس کی عمر میں ہوا، اور نمازِ جنازہ یکم جنوری 2026ء بروز جمعرات بعد از ظہر 2:30 بجے جہلم شہر کے وسیع و عریض شیشہ گراؤنڈ میں جانشین قائد اہلِ سنت، امیر تحریک خدام اہلِ سنت والجماعت، وکیلِ صحابہ حضرت مولانا قاضی محمد ظہور الحسین اظہر دامت فیوضہم کی اقتداء میں ادا کی گئی۔
نمازِ جنازہ میں جہلم شہر اور گرد و نواح کے مضافات کے علاوہ لاہور، گجرات، منڈی بہاؤالدین، آزاد کشمیر، چکوال، راولپنڈی اور ہزارہ ڈویژن کے علماء کرام، سیاسی و سماجی شخصیات سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
اور تدفین ان کے ننھیالی گاؤں موضع بودلہ (تحصیل دینہ، جہلم) میں ان کے فرزند حضرت مولانا محمد توصیف الرحمٰن رحمہ اللّٰہ کے جوار میں ہوئی۔
کلیوں کو میں خونِ جگر دے کے چلا ہوں
صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
حضرت مفتی صاحبؒ ہمارے اکابر و اسلاف کی نشانی، ان کی مبارک نسبتوں اور روایات کے امین اور ہم سب کے سروں پر رحمت و برکت کا عظیم سایہ تھے۔ 1952ء میں جہلم جانے سے لے کر یکم جنوری 2026ء جہلم سے آپ کا جنازہ رخصت ہو جانے تک پون صدی کا طویل عرصہ مستقل مزاجی سے جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم میں گزارنا بانیِ جامعہ مولانا عبداللطیف جہلمیؒ، فرزندِ جہلمی مولانا قاری خبیب احمد عمر رحمہ اللّٰہ، نبیرۂ جہلمی مولانا صاحبزادہ قاری محمد ابوبکر صدیق مدظلہ، متوسلین جہلمیؒ، اساتذہ و طلبۂ جامعہ اور متعلقین جامعہ سے آپ کی وفاداری اور وفاشعاری کا واضح ثبوت ہے۔
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو! وہ خواب ہیں ہم
رب تعالیٰ حضرت مفتی صاحبؒ کی کامل بخشش و مغفرت فرمائے، درجات بلند سے بلند تر فرمائے، ان کی عظیم اور گراں قدر دینی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہم سب کو ان کے مبارک نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم
لکھاری قاری محمد نعمان فاروقی جامعہ صدیقیہ قادریہ کے مدیر اور مرکزی جامع مسجد مدنی محلہ شمالی ڈومیلی، ضلع جہلم کے خطیب ہیں.


