Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: عظیم شیخ
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

عظیم شیخ

امیر عبدالقدیر اعوان
امیر عبدالقدیر اعوان
2 مارچ, 2025
شیئر کریں
شیئر کریں

دنیا میں آنکھ کھولنے سے لے کر میرے دنیا کوکھلی آنکھوں سے دیکھنے تک کے تمام تر مر احل جس کی نگاہ میں بسر ہو ئے وہ ریشم و فولاد، شفقت و جلال سادگی و جمال اور معصومیت و دانشِ کمال کا بے حد حسین امتزاج تھے۔

قدم قدم چلنے سے لے کر اپنے قدموں پہ کھڑا ہونے کے قابل بنانے تک، ان کی تربیت چلتی ہوئی سانسوں کی طرح بالکل غیر محسوس انداز سے، میرے کردار کی تعمیر و تشکیل کرتی رہی۔ گھر کی ذمہ داری تھی یا سلسلہ عالیہ کی خدمت، انہوں نے میری کم عمری کے باوجود جس اعتماد سے میرے کندھوں پہ ڈالی وہ در حقیقت خود میرے اندر اعتماد پیدا کرنے کے لیے تھی۔ وہ میرے شیخ بھی تھے اور میرے والد بھی۔

سفرِ حیات میں یہ ان کی راہنمائی ہی تھی کہ امو رِ سلسلہ میں، کبھی بھی شفقت پدری کی رعایت میرے ذہن میں آئی نہ آدابِ شیخ ملحوظ خاطر رکھتے ہو ئے بھی بحیثیت والد کبھی انہیں خود سے دور پایا۔ وہ میری زندگی کا محور و مرکز تھے۔ وہ میری منزل بھی تھے اور نشانِ منزل بھی۔ ان کی خوشنودی مجھے اپنی ہر خوشی سے عزیز تر تھی اور وہ ذات، مجھے اپنی ذات سے بڑھ کر عزیز تھی۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ میں، میں نہ رہا تھا ’وہ‘ہو گیا تھا۔ ان کی خواہش، ان کی رضا، ان کی خو شی، ان کی چاہ ہمہ وقت میری جستجو میں رہتی اور مجھے سرگرمِ عمل رکھتی۔ ان کے مزاج میں لحاظ و مروت اس درجہ تھی کہ اپنی رائے دینے کے بعد ان کی نگاہ میری جانب ضرور اٹھتی اور بحمد للہ مجھے سرِ تسلیم خم پاتی۔

قارئین کرام والد اور پھر ایسے والد! شیخ اور پھر ایسے شیخ!
انھوں نے کبھی بھی اولاد کو کوئی حکم نہ دیا۔ ہاں یہ خوا ہش ضرور رکھتے تھے کہ اولادبن کہے، ان کی رضا جان لے۔ اس معاملہ میں وہ اشارۂ ابرو کے بھی قائل نہ تھے۔ ہاں وہ خود ضرور ہر بچے کے مزاج، عادات اور خواہشات سے خوب واقف تھے۔ کسے، کب، کیا اور کیوں چاہیے؟ وہ جانتے تھے۔ وہ ہر ایک کی ضرورت ہی نہیں چاہت بھی جان جاتے اور پھر اس کی تکمیل کر دینے کے بعد لفظ ’شکریہ‘ بھی غیر ضروری سمجھتے، محض ایک چیز ضرور چاہتے، لینے والے کے چہرے کی خوشی۔ وہ خوشیاں با نٹ کر خوش ہونے والوں میں سے تھے اور یہ معاملہ فقط اولاد تک محدود نہ تھا۔

اولاد کے قلب میں طلب ِحق کی رمق بھی انہیں دنیا کی ہر خوشی سے بڑھ کر تھی۔ ان کا ذکر، ان کے مراقبات، ان کی ترقی ٔدرجات انہیں سرشار کر دیتی اور کسی کو غفلت میں دیکھتے تو آزردہ ہو جاتے لیکن یہ آزردگی بھی ان کی ذات تک ہی محدود رہتی۔ ان کا دل، ایک ماں کے دل سے بڑھ کر گداز تھا اور وہ باپ کی طرح اولاد کو اوج ِ کمال پہ دیکھنے کے آرزو مند تھے۔ وہ گلوں، شکوؤ ں کے قائل نہ تھے۔ تمام تر حیات میں کبھی کوئی کمزور جملہ ان کی زباں سے ادا نہ ہوا۔ وہ کوہ ِگراں بھی تھے اور بحرِ رواں بھی، وہ صدف بھی تھے اور ابرِ باراں بھی، وہ شبنمِ گل بھی تھے اور تجلی ٔابر بھی۔

دنیوی حاجات کے لیے ملنے والا بھی انہیں کبھی بھلا نہ پایا اور جس نے انہیں جان لیا وہ تو خدا یاب ہوا ۔ اب یہ مقدر کی با ت ہے کہ کس نے کتنا جانا۔ اپنے مرید انہیں اپنی مراد کی طرح عزیز تھے۔ دکھ درد سنانے والا خود تو ہلکا پھلکا ہو کر چلا جاتا لیکن وہ اس بار کو اپنے دل میں محسوس ہی نہیں اس کی شدت کو برداشت بھی کرتے۔ ان کی آہ ِسحر گاہی میں ہر ایک دُو دِدل کا درد موجود ہوتا ۔

لیکن! کو ن اندازہ کر سکتا ہے کہ ایسا قلب ان دلوں کے لیے کیا درد رکھتا تھا جو اس دل کے ساتھ دھڑکتے تھے۔ ایسی عطاء شعار ہستی اپنے سینے میں ان کے لیے کیا کچھ رکھتی تھی جن سینوں میں اس کے اپنے نام کی شمع فروزاں تھی۔ مرید تو اپنی حیثیت کے مطابق محبت کرتا ہے لیکن شیخ کی محبت اپنے مقام و ظرف کے مطابق ہوتی ہے اور پھر کون یہ سمجھا سکتا ہے کہ شیخ کے قلب میں انوارات کا سیل کارواں ان قلوب کی جانب کس طرح امڈتا ہے جس قلب کی طلب ہی وہ فیض بے کراں ہو۔ کسی نے کہا تھا:

جسے میں سناتا تھا دردِ دل وہ جو پوچھتا تھا غمِ دروں
وہ گدا نواز بچھڑ گیا وہ عطا شعار چلا گیا

مگر نہیں ! وہ بچھڑے نہیں ہیں۔ نہ وہ گئے ہیں۔ وہ ہم سب کا اپنے اللہ کریم سے ایسا تعلق جو ڑ گئے ہیں جس نے خو د انہیں بھی بچھڑنے نہیں دیا۔ انہیں بھی جا نے نہیں دیا ۔وہ خود فرما گئے ہیں:

دلوں کے باسی کہیں جایا نہیں کرتے

ہاں جاتے جاتے جہاں مجھے اپنے فیضان ِقلب کا امین بناگئے ہیں وہاں اپنے مریدوں کو بھی میرے لیے مراد کر گئے ہیں جہاں مجھ خطاکار کو برکاتِ رسالت کے تسلسل کا حصہ بنا گئے ہیں وہاں آپ سب کا درد بھی عطا کر گئے ہیں۔ آپ سب میر ے پاس ان کی وہ امانت ہو جو مجھے اپنی حفاظت کے لیے ہر لمحہ چوکنا اور لرزہ براندام رکھتی ہے۔ آپ سب میری دعا ؤں کا حصہ ہی نہیں بنے دل کے مکیں اور گویا وجود کا حصہ ہو گئے ہو ۔ میرے پاس یہی ان کی سب سے بڑی وراثت ہے۔

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
31°C
Jhelum
clear sky
31° _ 31°
71%
2 km/h
پیر
40 °C
منگل
39 °C
بدھ
37 °C
جمعرات
35 °C
جمعہ
37 °C

تازہ ترین

جہلم میں شہدائے کربلا اور نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا گیا
9 اگست, 2026
پی ڈی ایم اے نے مون سون کا 5 واں اسپیل شروع ہونے کی پیشگوئی کردی
9 اگست, 2026
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم سنگ میل ہے، چوہدری فرخ الطاف
9 اگست, 2026
جہلم میں کرپشن کے خلاف آگاہی واک، شفافیت اور دیانت داری کے فروغ کا عزم
9 اگست, 2026
جعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کے خلاف کارروائیاں سخت، 100 سے زائد مشکوک گاڑیاں پکڑی گئیں
9 اگست, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

تجاوزات کے خلاف کارروائی؛ مؤثر حکمت عملی کی ضرورت

31 جنوری, 2025

تیری معراج کہ تو لوح و قلم تک پہنچا

7 فروری, 2024

ڈاکٹر اسد ۔۔ عاجزی اور خدمت کا نام

3 جنوری, 2026

میاں عبدالجبار؛ فرض شناس قیادت کی ایک مثال

3 مارچ, 2026

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں