عظیم شیخ

دنیا میں آنکھ کھولنے سے لے کر میرے دنیا کوکھلی آنکھوں سے دیکھنے تک کے تمام تر مر احل جس کی نگاہ میں بسر ہو ئے وہ ریشم و فولاد، شفقت و جلال سادگی و جمال اور معصومیت و دانشِ کمال کا بے حد حسین امتزاج تھے۔

قدم قدم چلنے سے لے کر اپنے قدموں پہ کھڑا ہونے کے قابل بنانے تک، ان کی تربیت چلتی ہوئی سانسوں کی طرح بالکل غیر محسوس انداز سے، میرے کردار کی تعمیر و تشکیل کرتی رہی۔ گھر کی ذمہ داری تھی یا سلسلہ عالیہ کی خدمت، انہوں نے میری کم عمری کے باوجود جس اعتماد سے میرے کندھوں پہ ڈالی وہ در حقیقت خود میرے اندر اعتماد پیدا کرنے کے لیے تھی۔ وہ میرے شیخ بھی تھے اور میرے والد بھی۔

سفرِ حیات میں یہ ان کی راہنمائی ہی تھی کہ امو رِ سلسلہ میں، کبھی بھی شفقت پدری کی رعایت میرے ذہن میں آئی نہ آدابِ شیخ ملحوظ خاطر رکھتے ہو ئے بھی بحیثیت والد کبھی انہیں خود سے دور پایا۔ وہ میری زندگی کا محور و مرکز تھے۔ وہ میری منزل بھی تھے اور نشانِ منزل بھی۔ ان کی خوشنودی مجھے اپنی ہر خوشی سے عزیز تر تھی اور وہ ذات، مجھے اپنی ذات سے بڑھ کر عزیز تھی۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ میں، میں نہ رہا تھا ’وہ‘ہو گیا تھا۔ ان کی خواہش، ان کی رضا، ان کی خو شی، ان کی چاہ ہمہ وقت میری جستجو میں رہتی اور مجھے سرگرمِ عمل رکھتی۔ ان کے مزاج میں لحاظ و مروت اس درجہ تھی کہ اپنی رائے دینے کے بعد ان کی نگاہ میری جانب ضرور اٹھتی اور بحمد للہ مجھے سرِ تسلیم خم پاتی۔

قارئین کرام والد اور پھر ایسے والد! شیخ اور پھر ایسے شیخ!
انھوں نے کبھی بھی اولاد کو کوئی حکم نہ دیا۔ ہاں یہ خوا ہش ضرور رکھتے تھے کہ اولادبن کہے، ان کی رضا جان لے۔ اس معاملہ میں وہ اشارۂ ابرو کے بھی قائل نہ تھے۔ ہاں وہ خود ضرور ہر بچے کے مزاج، عادات اور خواہشات سے خوب واقف تھے۔ کسے، کب، کیا اور کیوں چاہیے؟ وہ جانتے تھے۔ وہ ہر ایک کی ضرورت ہی نہیں چاہت بھی جان جاتے اور پھر اس کی تکمیل کر دینے کے بعد لفظ ’شکریہ‘ بھی غیر ضروری سمجھتے، محض ایک چیز ضرور چاہتے، لینے والے کے چہرے کی خوشی۔ وہ خوشیاں با نٹ کر خوش ہونے والوں میں سے تھے اور یہ معاملہ فقط اولاد تک محدود نہ تھا۔

اولاد کے قلب میں طلب ِحق کی رمق بھی انہیں دنیا کی ہر خوشی سے بڑھ کر تھی۔ ان کا ذکر، ان کے مراقبات، ان کی ترقی ٔدرجات انہیں سرشار کر دیتی اور کسی کو غفلت میں دیکھتے تو آزردہ ہو جاتے لیکن یہ آزردگی بھی ان کی ذات تک ہی محدود رہتی۔ ان کا دل، ایک ماں کے دل سے بڑھ کر گداز تھا اور وہ باپ کی طرح اولاد کو اوج ِ کمال پہ دیکھنے کے آرزو مند تھے۔ وہ گلوں، شکوؤ ں کے قائل نہ تھے۔ تمام تر حیات میں کبھی کوئی کمزور جملہ ان کی زباں سے ادا نہ ہوا۔ وہ کوہ ِگراں بھی تھے اور بحرِ رواں بھی، وہ صدف بھی تھے اور ابرِ باراں بھی، وہ شبنمِ گل بھی تھے اور تجلی ٔابر بھی۔

دنیوی حاجات کے لیے ملنے والا بھی انہیں کبھی بھلا نہ پایا اور جس نے انہیں جان لیا وہ تو خدا یاب ہوا ۔ اب یہ مقدر کی با ت ہے کہ کس نے کتنا جانا۔ اپنے مرید انہیں اپنی مراد کی طرح عزیز تھے۔ دکھ درد سنانے والا خود تو ہلکا پھلکا ہو کر چلا جاتا لیکن وہ اس بار کو اپنے دل میں محسوس ہی نہیں اس کی شدت کو برداشت بھی کرتے۔ ان کی آہ ِسحر گاہی میں ہر ایک دُو دِدل کا درد موجود ہوتا ۔

لیکن! کو ن اندازہ کر سکتا ہے کہ ایسا قلب ان دلوں کے لیے کیا درد رکھتا تھا جو اس دل کے ساتھ دھڑکتے تھے۔ ایسی عطاء شعار ہستی اپنے سینے میں ان کے لیے کیا کچھ رکھتی تھی جن سینوں میں اس کے اپنے نام کی شمع فروزاں تھی۔ مرید تو اپنی حیثیت کے مطابق محبت کرتا ہے لیکن شیخ کی محبت اپنے مقام و ظرف کے مطابق ہوتی ہے اور پھر کون یہ سمجھا سکتا ہے کہ شیخ کے قلب میں انوارات کا سیل کارواں ان قلوب کی جانب کس طرح امڈتا ہے جس قلب کی طلب ہی وہ فیض بے کراں ہو۔ کسی نے کہا تھا:

جسے میں سناتا تھا دردِ دل وہ جو پوچھتا تھا غمِ دروں
وہ گدا نواز بچھڑ گیا وہ عطا شعار چلا گیا

مگر نہیں ! وہ بچھڑے نہیں ہیں۔ نہ وہ گئے ہیں۔ وہ ہم سب کا اپنے اللہ کریم سے ایسا تعلق جو ڑ گئے ہیں جس نے خو د انہیں بھی بچھڑنے نہیں دیا۔ انہیں بھی جا نے نہیں دیا ۔وہ خود فرما گئے ہیں:

دلوں کے باسی کہیں جایا نہیں کرتے

ہاں جاتے جاتے جہاں مجھے اپنے فیضان ِقلب کا امین بناگئے ہیں وہاں اپنے مریدوں کو بھی میرے لیے مراد کر گئے ہیں جہاں مجھ خطاکار کو برکاتِ رسالت کے تسلسل کا حصہ بنا گئے ہیں وہاں آپ سب کا درد بھی عطا کر گئے ہیں۔ آپ سب میر ے پاس ان کی وہ امانت ہو جو مجھے اپنی حفاظت کے لیے ہر لمحہ چوکنا اور لرزہ براندام رکھتی ہے۔ آپ سب میری دعا ؤں کا حصہ ہی نہیں بنے دل کے مکیں اور گویا وجود کا حصہ ہو گئے ہو ۔ میرے پاس یہی ان کی سب سے بڑی وراثت ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button